عورت کا بال کٹوانا

سوال:

میں آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ پہلا یہ کہ میں نے المورد کی سائٹ پر عورتوں کے بال کٹوانے سے متعلق ایک آرٹیکل پڑھا تھا جس میں حضرت عائشہؓ کے بال کٹوانے کا ذکر ہے۔ برائے مہربانی اس حدیث کا حوالہ بھی دیجیے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے نبیؐ کی وفات کے بعد اپنے بال کٹوائے تھے۔ میرا دوسرا سوال داہنے ہاتھ سے کھانے کی سنت سے متعلق ہے۔ کیا یہ سنت پوری کرنا صرف اس وقت ضروری ہے جب ہم کھانے میں صرف اپنے ہاتھ استعمال کر رہے ہوں یا جب ہم کھانے کے لیے چھری کانٹا استعمال کر رہے ہوں تو بھی صرف داہنا ہاتھ ہی استعمال کرنا سنت ہے؟ میرا تیسرا سوال موسیقی سے متعلق ہے۔ سورہ مومنون میں جنتیوں کا کردار بیان کیا گیا ہے جس کی تیسری آیت میں جو لفظ 'اللّغو' استعمال ہوا ہے اس سے متعلق مولانا امین احسن اصلاحی کا کہنا ہے کہ یہ تمام قسم کی لغویات (مباح یا غیر مباح) کے معنوں میں آتا ہے۔ تو گویا موسیقی ایک مباح عمل ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ حضور کی ازواج کے بال کاٹنے کا ذکر کس روایت میں ہوا ہے۔آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ کانٹا چھری استعمال کرتے ہوئے بائیں ہاتھ سے بھی کھایا جا سکتا ہے۔آپ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ مباح سے کیا مراد ہے۔

پہلے سوال کے جواب مسلم کی ایک حدیث نقل کر رہا ہوں:

وحدثني عُبَيْدُ اللَّهِ بن مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ قال حدثنا أبي قال حدثنا شُعْبَةُ عن أبي بَكْرِ بن حَفْصٍ عن أبي سَلَمَةَ بن عبد الرحمن قال دَخَلْتُ على عَائِشَةَ أنا وَأَخُوهَا من الرَّضَاعَةِ فَسَأَلَهَا عن غُسْلِ النبي من الْجَنَابَةِ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ وَأَفْرَغَتْ على رَأْسِهَا ثَلَاثًا قال وكان أَزْوَاجُ النبي e يَأْخُذْنَ من رؤوسهن حتى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ

”ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے۔ میرے ساتھ ان کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ انھوں نے ان سے غسل جنابت (کے لیے پانی کی مقدار) کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع(چار لٹر) کے برابر تھا۔ وہ اس سے نہائیں۔ ہمارے اور ان کے بیچ پردہ تھا۔ انھوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا۔ آپ کی ازواج اتنے بال کاٹ رکھتی تھیں کہ وہ کانوں تک ہی ہوتے تھے۔

کانٹا چھری استعمال کرتے ہوئے اگر دونوں ہاتھوں سے کھانا کھایا جا رہا ہو تو بائیں ہاتھ سے کھانا منہ میں ڈالا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ اصل میں دائیں ہاتھ سے کھا رہے ہوں اور کبھی بائیں ہاتھ سے بھی کوئی چیز منہ میں ڈال لیں۔

مباح فقہی مباحث میں ان امور کو قرار دیا جاتا ہے جن کے کرنے یا نہ کرنے سےگناہ وثواب کا کوئی تعلق نہ ہو۔ موسیقی اور اس طرح کے دوسرے فنون لطیفہ اصلا مباح ہیں۔ لیکن ان کا غلط استعمال انھیں گناہ بنا دیتا ہے۔ چنانچہ تمام مباح امور میں شریعت اور اخلاق کی حدود کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author