عورت کا سر ڈھانکنا

سوال:

کیا عورت کے لیے ہر وقت اپنا سر ڈھانکنا لازم ہے؟


جواب:

سورۂ نور میں مسلمان عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سر کی اوڑھنیوں سے اپنے گریبانوں کو ڈھانکیں۔ ان الفاظ سے گریبانوں کو ڈھانکنے کا حکم تو واضح طور پر معلوم ہو تا ہے، لیکن یہ بات صریح طور پر معلوم نہیں ہوتی کہ سر کی اوڑھنی سر پر لینا لازم ہے، مستحب ہے یا یہ محض عرب خواتین کا ایک رواج تھا۔
البتہ ابوداؤد کی ایک حدیث سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں عورت کے لیے سر کی اوڑھنی ضروری ہے۔ ''بالغ عورتیں سر کی اوڑھنی لیے بغیر نماز پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرتے۔ '' (ابوداؤد، رقم 641)
اس سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سر کی اوڑھنی کا سر پر ہونا لازم ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ نماز سے باہر آنے کے بعد بھی، چونکہ ہم خدا کی بندگی ہی میں ہوتے ہیں،اس لیے پسندیدہ بات یہی ہے کہ عام حالات میں بھی عورت کا سر ڈھکا ہونا چاہیے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author