پیغمبر کے علاوہ وحی

سوال:

کیا پیغمبر کے علاوہ بھی وحی آسکتی ہے۔ یا اس کی کوئی صورت نبی بنے بغیر کسی آدمی کو پیش آسکتی ہے۔


جواب:

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب اللہ تعالی کی طرف سے دینی رہنمائی کا سلسلہ بند کیا جا رہا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اب کسی شخص کو خدا کی طرف سے کسی دینی رہنمائی کے ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جو لوگ اس طرح کے دعوے کرتے ہیں ان کی بات بالکل بے بنیاد ہے اور وہ شیطان کے بہکاوے میں آئے ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

عن ابی هريرة رضی الله عنه قال: سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول: لم يبق من النبوة الا المبشرات٠ قالوا: وما المبشرات؟ قال: الرؤيا الصالحة٠(بخاری، رقم٦٥٨٩)

''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ نبوت (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے رابطے کے پہلو سے) مبشرات کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ لوگوں نے پوچھا: یہ مبشرات کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا خواب۔''

اچھے خواب سے بھی دینی رہنمائی مراد نہیں لی جا سکتی اس لیے کہ یہ معنی لینے کی صورت میں یہ روایت قرآن مجید کے خلاف چلی جائے گی۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author