پیر اور بیعت

سوال:

میرے سوالات حسبِ ذیل ہیں:

  1. کیا اسلام میں پیرو مرشد کی کوئی گنجایش ہے ؟ اور کیا عام لوگوں کو اپنے پیروں ہی کی پیروی کرنی چاہیے؟
  2. پیر لوگ نئے آنے والوں سے بیعت لیتے ہیں اور نوجوان لوگ اس معاملے میں اتنے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ والدین کے نافرمان تک بن جاتے ہیں او رزیادہ مسئلہ ہونے کی صورت میں ماں باپ کا گھر بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ پیر کے الفاظ کو قرآن کے الفاظ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں حالانکہ قرآن میں صاف لکھا ہوا ہے کہ اولاد اپنے والدین کی نافرمانی کسی حال میں بھی نہیں کر سکتی، ہاں اگر ماں باپ کفر و شرک کا حکم دینے لگیں تو بلاشبہ ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔میں نوجوانوں کے اس طرزِ عمل اور اسلام میں پیر و مرشد کے مقام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا چاہتا ہوں؟

جواب:

آپ کے سوالات کے ترتیب وار جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔پیر کا کوئی تصور اسلام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اہل تصوف کا متعارف کرایا ہوا ایک طریقہ ہے جس میں عام لوگوں کو اصلاح کی غرض سے کسی ایک شخص سے وابستہ کر دیا جاتا ہے ۔ تاہم اس طریقے میں جتنے فوائد ہیں اتنے ہی نقصانات کا اندیشہ ہے ۔مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ پیر پرستی اکثر اوقات شرک، توہمات اوربدعات وغیرہ کی طرف لے جانے کا باعث بن جاتی ہے ۔اسلام میں اصلاح کا طریقہ پیری مریدی کا نہیں ، بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ہے ، جسے تواصی بالحق اور تواصی بالصبر بھی کہا جاتا ہے ۔ ان کا بیان قرآ ن مجید میں اس طرح آیا ہے :

’’زمانہ گواہی دیتا ہے کہ یہ انسان خسارے میں پڑ کر رہیں گے ۔ہاں ، مگر وہ نہیں جو ایمان لائے ، اور انہوں نے نیک عمل کیے ، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کی۔‘‘ (عصر103: 1۔3)

’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔باہم دگربھلائی کی نصیحت کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔‘‘( التوبہ9:71)

جہاں تک اطاعت اور پیروی کا سوال ہے تو قرآن کریم میں غیر مشروط اطاعت صرف اللہ اور رسول کے لیے بیان ہوئی ہے ۔باقی ہر شخص کی بات کو دین کی کسوٹی پر پرکھ دیکھا جائے گا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں ۔ بات ٹھیک ہے تو مانی جائے گی ورنہ نہیں ۔

۲۔کسی پیر سے بیعت کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ۔ہم پیچھے عرض کر چکے ہیں کہ یہ پورا طریقہ ایک اچھے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے اخذکیا ہے ، لیکن یہ قرآن و سنت کا بتایا ہوا طریقہ نہیں ہے ۔کسی پیر کی بات اگر قرآن مجید سے زیادہ اہم ہوجائے اور وہ والدین کے حقوق کی پامالی پر ابھارنے لگے تو ظاہر ہے کہ یہ وہی چیز ہے جسے ہم نے بیان کیا ہے کہ اس طریقے میں جتنے فوائد ہیں اتنے ہی نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ یہ رویے ان نقصانات کی بڑ ی نمایاں مثالیں ہیں ۔

اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ اسلام میں صرف ایک ہی بیعت کا تصور ہے اور وہ اپنی حکومت کے سربراہ سے سمع و طاعت کی بیعت ہے ۔اس کے سوا کسی بیعت کی کوئی دینی حیثیت نہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین سے لوگ اطاعت کی یہی بیعت کیا کرتے تھے ۔اللہ اور رسول کے علاوہ حکمرانوں کی اس اطاعت کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آیا ہے:

’’ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرواوراس کے رسول کی اطاعت کرواوران لوگوں کی جوتم میں سے صاحبِ امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگرکسی معاملے میں اختلاف راے ہوتو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو، اگرتم اللہ پراورقیامت کے دن پرایمان رکھتے ہو۔یہ اچھا ہے اورانجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے ۔‘‘ (نساء4: 59)

اس آیت کے مطابق مسلمانوں کے لیے اطاعت کا اصل ماخذ اللہ اور رسول ہیں ۔ ان کے کسی حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی ۔ ان کے بعد ریاست کے نظم اور اس کے چلانے والے صاحبِ امریعنی حکمرانوں کی اطاعت بھی لازمی ہے۔ ہاں اگر ان سے اختلاف ہوجائے تو فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہو گا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author