پلكيں بنانا

سوال:

میرا بھائی USA میں ایک (eyebrows parlour) چلاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں USA میں قیام کرنے جاری ہوں تو، اپنے قیام کے دوران کیا میں اپنے خرچے کے لیے اس eyebrows parlour پر پلکیں بنانے کا کام کر سکتی ہوں؟ مجھے یہاں آسانی سے کوئی اور نوکری نہیں مل سکتی ۔ کام تلاش کرنے کے لیے مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں اور بھی بہت لوگوں سے یہ سوال کر چکی ہوں لیکن جواب میں جو حدیث بیان کی جاتی ہے جو کہ میں آپ کی طرف وضاحت کے لیے ارسال کی ہے، وہ جب میں پڑھتی ہوں تو میرا دل مایوس ہو جاتا ہے جب کہ میں پہلے ہی سے مایوسی کا شکار ہوں اور زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کر رہی ہوں۔ اور اب میں صحیح راستے پر چلتے ہوئے ہی زندگی کے مزید امتحانات اور مشکلات سے بچنا چاہتی ہوں۔برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں میرے مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں رہنمائی فرمائیے، اور پلکیں بنانے کے معاملے میں کوئی تاریخی حوالہ بھی دیجیے۔

سوالات یہ ہیں:

کیا پلکیں بنانا یا اکھاڑنا اسلام میں ممنوع ہے؟

پلکیں بنا کر روزی کمانا حلال ہے یا کہ حرام؟

کیا غیر مسلم ممالک میں پلکیں بنانا زیادہ بری چیز ہے؟ کیوں کہ غیر مسلم ممالک میں ہمارا واسطہ ایسی چیزوں سے بھی پڑتا ہے جو اسلامی تعلیم کے مطابق ممنوع ہوتی ہیں۔جیسا کہ ہوٹل، کے ایف سی اور میکڈونلڈ جیسی جگوں پر ہمارا واسطہ شراب اور سور کے گوشت سے بھی پڑتا ہے۔لیکن ہمیں اپنی زندگی گزارنے کے لیے کمائی کرنی پڑتی ہے خاص طور پر مجھ جیسی عورت کو جس کو بچوں کی پرورش کرنی ہو۔اور مہربانی فرما کر حدیث کے بارے میں وضاحت ضروری ارسال کریں۔ کہ اس حدیث کا درجہ کیا ہے؟اور دوسرا یہ کہ مجبوری کی حالت میں پلکیں بنانے کو یہ حدیث کس طرح ممنوع قرار دیتی ہے؟

مجھے امید ہے کہ آپ میرے سوالوں کے جواب جلد ارسال کریں گے۔


جواب:

ہمارے علما بالعموم مندرجہ ذيل كو حرام سمجھتے ہيں۔

1- بھنویں بنانا

2- چہرے کے بال صاف کرانا

3- جلد پر نقوش بنانا

4- دانتوں کو کھرچ کر ان کے گیپ کو بڑھانا

5- سر میں مصنوعی بالوں کا استعمال

لیکن ہماری تحقیق کے مطابق یہ تمام چیزیں حرام نہیں ہیں۔ اپنى رائے بیان کرنے سے پہلے یہ لازم ہے کہ ہم دوسرے علما کی بات کو سمجھ لیں ، تاکہ پڑھنے والا جس رائے کو چاہے پوری بصیرت سے اختیار کرے اور جس کو رد کرے وہ بھی پوری بات کو سمجھ کر دل کے اطمینان کے ساتھ رد کرے، تاکہ کل قیامت کے دن خدا کے حضور جوابدہی میں سرخ رو ہو سکے۔ دینی معاملات میں ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ جو بات اچھی لگ رہی ہو اسے مان لیں ، بلکہ طرز عمل یہ ہونا چاہیے کہ جو بات مدلل ہو ، اور صحیح ہو اسے مانا جائے۔آئیے اب دونوں نقطہ ہائے نظر کا مطالعہ کرتے ہیں:

علمـا کا استدلال

علمانے دو باتوں سے ان کے حرام ہونے پر دلیل دی ہے:

پہلی دليل

ایک حدیث ہے جس میں عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے منقول کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہے کہ حسن بڑھانے کے لیے اگر ایسے کام کیے جائیں جو خلق اللہ میں تبدیلی کرتے ہوں تو ان پر اللہ تعالی نے لعنت کی ہے۔ (بخاری مسلم)وہ حدیث یہ ہے:

عن عبد اللهِ قال لَعَنَ الله الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ فَبَلَغَ ذلك امْرَأَةً من بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لها أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ فقالت إنه بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فقال ومالي لا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ هو في كِتَابِ اللهِ فقالت لقد قرأت ما بين اللَّوْحَيْنِ فما وَجَدْتُ فيه ما تَقُولُ قال لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لقد وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ (وما آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وما نَهَاكُمْ عنه فَانْتَهُوا.)۔ قالت بَلَى قال فإنه قد نهى عنه . (بخاري 4604)

حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تزین کے لیے جلد پر نقش بنانے، (١)اور بنوانے والیوں پر چہرے کے بال اکھڑوانے والیوں، (٢) دانتوں کو رگڑ کر ان کا گیپ زیادہ کرنے والیوں،(٣) اور خلق اللہ کو تبدیل کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ان کی یہ بات بنو اسد قبیلے کی ایک خاتون، جنھیں ام یعقوب کہا جاتا تھا، نے سنی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یوں اور یوں کہتے ہیں! انھوں نے کہا کہ مجھے کیا ہے کہ میں ان پر لعنت کرنے سے رکوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہو۔اس عورت نے کہا کہ میں نے تو قرآن مجید تو شروع سے آخر تک پڑھا ہے۔ لیکن میں نے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا: اگر آپ نے صحیح طرح سے قرآن پڑھا ہوتا تو یقینا یہ بات آپ اس میں پا لیتیں۔ کیا آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ:''جو کچھ اللہ کے رسول نے دیا ہے وہ لے لو، اور جس کو آپ نے روکا ہے اس سے رک جاؤ۔'' اس عورت نے کہا، ہاں میں نے یہ آیت پڑھی ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ پھر جان لو کہ ان کاموں سے نبی اکرم نے روکا ہے۔

اس حدیث میں ایسے کرنے والوں کے لیے اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی کی لعنت کرنے کا لازمی مطلب یہ ہے کہ یہ کام حرام ہے۔

سنن ابی داؤدمیں لعنت کے مستحق لوگوں کی فہرست میں کچھ اضافہ ہے:

عن بن عباس قال لعنت الواصلة والمستوصلة والنامصة والمتنمصة والواشمة والمستوشمة من غير داء.(أبو داؤد رقم 4170)

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی مرض کے بغیربال لگانے اور لگوانے والی، بہنویں بنانے اور بنوانے والی، جلد پر نقش بنانے واور بنوانے والی پر لعنت کی گئی ہے۔

دوسری دليل:

اسی حدیث میں ایسا کرنے کو اللہ کی خلق میں تبدیلی (change in the creation of Allah)کہاگیا ہے اورخلق اللہ میں تبدیلی کو قرآن مجید میں شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے۔(النساء 4: 116۔ 119)۔

سو مختصر یہ کہ ایسے اعمال کرنے والے پر اللہ تعالی نے لعنت کی ہے، لعنت اللہ کی طرف سے ظاہر ہے ایسی کسی چیز پر ہو گی جو حرام اور ناجائز ہو گی، اور دوسرے یہ کہ یہ خلق اللہ میں تبدیلی کرنا ہے۔یہ بھی شیطانی کام ہے۔

ان دلائل کا جـائزہ

پہلی دليل کا جائزہ : حدیث

مذکورہ بالاابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو حدیث سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ حدیث نہیں، بلکہ ان کی اپنی رائے ہے۔ہمارے خیال میں اس پورے موضوع پر اصل حدیثیں دو ہیں ۔ باقی سب روایتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو راویوں نے اپنی اپنی سمجھ سے بیان کردیا ہے۔ پہلی روایت وشم(tattooing)جلد پر نقش و نگار بنانے سے متعلق ہےاور دوسری وصل ( سر میں مصنوعی بال لگانے )سے متعلق ہے۔ اوپر عبد اللہ ابن مسعود کی جو روایت میں نے علما کا موقف بیان کرتے وقت لکھی ہے ، وہ نبی اکرم کا فرمان نہیں ہے، بلکہ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنا فتوی ہے ]اسے ہم آگے چل کرواضح کریں گے کہ یہ حدیث کیوں نہیں ہے[۔ وشم (tattooing)سے متعلق اصل روایت یہ ہے:

عن أبي هُرَيْرَةَ قال أتى عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ. فَقَامَ فقال: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ مَنْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِ صلى الله عليه وسلم فِي الْوَشْمِ فقال أبو هُرَيْرَةَ فَقُمْتُ فقلت يا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أنا سمعت قال ما سَمِعْتَ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لَا تَشِمْنَ ولا تَسْتَوْشِمْنَ. (صحيح بخاري رقم 5602)

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا ، جو جلد پر نقش بناتی تھی، تو آپ اٹھے اور کہا کہ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کون ہے جس نے وشم کے بارے میں آپ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو؟ ابوہریرہ نے کہا کہ میں کھڑا ہوا اور بولا کہ اے امیر المومین میں نے سنا تھا۔ حضرت عمر نے کہا تم نے کیا سنا تھا۔ ابو ہریرہ نے کہا میں نے نبی پاک کو کہتے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے نہ نقش جِلد پر بناؤ نہ بنواؤ۔

اسے ہم نے اصل روایت اس لیے قرار دیا ہے کہ اس میں سیدنا عمر کے مطالبہ پر سیدنا ابو ہریرہ نے وہی الفاظ بتائے ہیں جو انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے تھے۔ چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کےالفاظ صرف یہ ہیں کہ:

لَا تَشِمْنَ ولا تَسْتَوْشِمْنَ ''نہ tattooبناؤ اورنہ بنواؤ۔''

یہ سادہ نہی ہے ]نہی: forbiddance ،منع کرنا[ ۔ سادہ نہی حرمت کو لازم نہیں کرتی۔یعنی آپ کے یہ الفاظ اس عمل کو حرام کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ نہی دینی اعتبار سے منع کرنے سے ہٹ کر بھی کئی معنی اپنے اندر رکھتی ہے۔ آپ کے منع کرنے کو ہر دفعہ حرام کرنے کے معنی میں لینا دین کو منہدم کردے گا۔ مثلا وہ بات آپ کے علاقے میں پسند نہیں کی جاتی، اس لیے آپ نے اس سے منع کیا ہوگا۔ وہ صحت کے لیے اچھی نہیں ہو گی، یا وہ نقصان دہ ہوگی، وغیرہ۔ ہمارے خیال میں آپ کے اس فرمان مبارک کہلَا تَشِمْنَ ولا تَسْتَوْشِمْنَ"نہ tattooبناؤ اورنہ بنواؤ۔" کو حرام کرنے کے معنی میں لینے کی وجہ صرف ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا وہ فتوی ہے، جو انہوں دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اسے حرام کرنے کی طرف لے جاتی ہو۔ آپ کی فرمائی ہوئی باتوں میں بہت سی باتیں دینی ہیں ، اور بہت سی دنیوی۔]اس موضوع پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے کہ کیا واقعی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیوی امور میں بھی حکم یا مشورہ دیتے تھے۔[ وشم(tattooing)سب لوگوں کے ہاں کوئی اچھا عمل کبھی بھی نہیں سمجھاگیا۔ ہر سماج کے سنجیدہ اور باوقار لوگ اس کو ناپسند کرتےرہے ہیں۔ آپ کا یہ روکنا بھی صرف اسی معنی میں ہے۔

دوسری روایت بالوں سے متعلق ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

عن أسماء بنت أبي بكر قالت جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إن لي ابنة عريسا أصابتها حصبة فتمرق شعرها أفاصله فقال لعن الله الواصلة( مسلم رقم 2122)

اسما بنت ابوبکر سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو اس نے پوچھا کہ اے رسول اللہ میری بیٹی کی شادی ہے، لیکن اسے حصبہ کی بیماری ہوئی اور اس کے بال گر گئے ہیں، تو کیا میں مصنوعی بال اسے لگا دوں آپ نے فرمایا اللہ نے ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔

بخاری میں یہ روایت یوں آئی ہے:

عن عائشة أن امرأة من الأنصار زوجت ابنتها فتمعط شعر رأسها فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقالت إن زوجها أمرني أن أصل في شعرها فقال لا إنه قد لعن الموصلات(بخاري رقم 4909)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، تو کسی بیماری کی وجہ سے اس کے سر کے بال جھڑ گئے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، اور یہ بات بتا کر بولی کہ میری بیٹی کے شوہر نے کہا ہے کہ میں اس کے بالوں میں دوسرے بال لگا دوں۔ آپ نے فرمایا نہیں بال لگانے والیوں پرلعنت کی گئی ہے۔

واقعہ اور آخری جملہ دونوں روایتوں میں مختلف ہو گئے ہیں۔ مسلم میں شوہر کا ذکر نہیں ہے، اور بخاری میں اس کا ذکر ہے۔ اسی طرح آخری جملہ کے الفاظ بھی بدل گئے ہیں، راویوں نے اپنے فہم کےمطابق ان میں تبدیلی کردی ہے۔ الفاظ پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔یہاں میں صرف یہ بات عرض کروں گا کہ آخری الفاظ کی حد تک بخاری کا متن قابل ترجیح ہے ۔مصنوعی بال لگانے کی ممانعت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ایک وجہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ میں احادیث میں آئی ہے۔ وہ وجہ دھوکا ہے۔ مثلا یہ کہ کسی بچی کے رشتے کے وقت حقیقت چھپا نے کے لیے مصنوعی بال لگا کر رشتہ دکھا یا جائے اور دلہا والوں کو دھوکے میں رکھا جائے کہ اس کے سرپر بال موجود ہیں ، حالانکہ اس کے بال نہ ہوتو یہ بلاشبہ گناہ کی بات ہے اور اس پر لعنت ملامت کی جاتی ہے: وہ حدیث ذیل میں ہے:

أيما امرأة أدخلت في شعرها من شعر غيرها فإنما تدخله زورا(مسند احمد 16971)

جو عورت بھی اپنے بالوں میں دوسری عورت کے بال ٹکاتی ہے وہ دھوکا ہی تو دیتی ہے۔

ان احادیث کے مطالعہ کے بعد اب میں ان نکات کو بیان کروں گا جن سے یہ واضح ہو گا کہ یہ حدیث نہیں خود ابن عباس کی اپنی رائے ہے۔

اس روایت کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ حدیث نہیں اپنی قیاسی رائے سنا رہے ہیں ، جو انھوں نے خود قرآن مجید اور احادیث سے سمجھی اور اس کو قیاسا دوسری چیزوں پر پھیلادیا۔ اس روایت میں اگر حدیث ہے تو صرف آخری جملہ جس میں ابن عباس نے فرمایا کہ فإنه قد نهى عنه، کہ آپ اس چیز سے روک چکے ہیں۔چنانچہ اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ پر غور کیا جائے تو وہ حدیث نہیں سنا رہے ہیں ، بلکہ اپنے لعنت کرنے کے عمل کی وجہ بتارہے ۔ اور اپنے لعنت کرنے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلائل د ے رہے ہیں ، اس خاتون کے اعتراض کے جواب میں انھوں نے اپنا استدلال یوں بیان کیا ہے:

ومالي لا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ هو في كِتَابِ اللهِ فقالت لقد قرأت ما بين اللَّوْحَيْنِ فما وَجَدْتُ فيه ما تَقُولُ قال لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لقد وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ (وما آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وما نَهَاكُمْ عنه فَانْتَهُوا.)۔ قالت بَلَى قال فإنه قد نهى عنه

مجھے کیا ہے کہ میں ان پر لعنت کرنے سے رکوں جن پر رسول اللہ نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہو۔ اس خاتوں نے کہا کہ میں نے تو قرآن ِمجید شروع سے آخر تک پڑھا ہے۔ لیکن میں نے تو ایسی کوئی بات اس میں نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا: اگر آپ نے صحیح طرح سے پڑھا ہوتا تو یقینا یہ بات آپ اس میں پا لیتیں۔کیا آپ نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ ‘‘ جو کچھ اللہ کے رسول نے دیا ہے وہ لے لو، او جس کو آپ نے روکا ہے اس سے رک جاؤ’’۔ اس عورت نے کہا :ہاں میں نے یہ آیت پڑھی ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ پھر یہ جان لو کہ ان کاموں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں پر لعنت کی جو وہ کام کرتے ہیں ، جن کاموں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے، اور قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ جس کام کا نبی صلی اللہ کرنے کو کہیں وہ کرو اور جس کے کرنے سے روکیں اس سے رک جاؤ۔ اس لیے میں ایسے لوگوں پر لعنت کرسکتا ہوں، جو آپ کے منع کردہ کاموں کو کریں۔ تو گویا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے قرآن کی اس آیت جس کا انھوں نے حوالہ دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روکنے کے حکم کو لے کر انھوں نے ایک رائے بنائی۔ اور قیاسی رائے پر عمل کرتے ہوئے لعنت ملامت کی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چیزوں سے روکا تھا اور ابن عباس نے اس کی روشنی میں کچھ اور چیزوں سے بھی روک دیا۔ اس لیے کہ انھوں نے اس کی علت (وجہ) یہ متعین کی کہ شکلوں کو تبدیل کرنا خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔اور پھر اس علت کو جس جس چیز میں پایا اس کے بارے میں یہی فتوی دے دیا۔

دوسری بات یہ کہ حضرت ابوہریرہ نے آپ کی زبان مبارک سے سنے ہوئے الفاظ جو بتائے ہیں ، وہ ابن عباس کی روایت سے میل نہیں کھاتے۔

تیسرے یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے میں بیماری کے باوجود اجازت نہیں دی۔ جبکہ ابن عباس بیماری میں اجازت دے رہے ہیں۔اس لیے دونوں باتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔اوپر جس دلہن کے بالوں کا ذکر ہے اس کی ماں نے یہی بتایا تھا کہ اسے کوئی بیماری ہوئی اور اس کے بال جھڑ گئے۔

حضرت ابن عباس نے اس کے حرام ہونے کی وجہ خلق اللہ میں تبدیلی بتائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز (مصنوعی بالوں)کو دھوکا قرار دیا ہے، اور دوسرے کے روکنے کی وجہ بتائی ہی نہیں ۔

ابوہریرہ نے جب احتیاط کے ساتھ آپ کے الفاظ دہرائے تو وہ صرف یہ تھے کہ لَا تَشِمْنَ ولا تَسْتَوْشِمْنَ جبکہ ابن عباس نے اسے لعنت کرنے سے تعبیر کیا ہے۔

چنانچہ یہ حدیث نہیں ہے ، حضرت ابن عباس کا اثر ہے اور یقینا قابل غور ہے۔ لیکن بہرحال حدیث نہ ہونے کی وجہ سے اس فتوی سے اختلاف جائز ہو جاتا ہے۔

دوسری دلیل كا جـائزہ

خلق اللہ میں تبدیلی کے معنی

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ کے الفاظ شامل ہیں۔ جیسا میں اوپر عرض کر آیا ہوں کہ کسی اور روایت میں یہ الفاظ نبی اکرم کے بیان میں نہیں آئے ۔ اس لیے ہم ان الفاظ کو سیدنا ابن مسعودکی رائے قرار دیں گے۔ یعنی ابن مسعود اس عمل سے منع کرنے کی وجہ یہ متعین کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے اس لیے روکا کہ اس سے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی آتی ہے۔ان کی طرف اگر یہ نسبت درست ہے تو یہ بہرحال ان کی رائے ہے ، اورہم ان کی رائے کو یہاں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

قرآن مجید میں خلق اللہ کے معنی

خلق اللہ میں خلق کی اضافت اللہ کی طرف ہوئی۔ یہ اضافت نسبت کے معنی میں ہے ۔یعنی جیسے کوئی مصور اپنے بنائی ہوئی تصویر کو یہ کہے کہ''یہ میری تخلیق ''ہے۔ تو یہ ملکیت کی بات نہیں ہے اور نہ ظاہری شکل و صورت کی بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہے اس تصویرکو میں نے بنایا ہے۔کسی اور نے نہیں۔ اگر کوئی اور دعوی کردے کہ تصویر تو میں نے بنائی ہے تو اس کو کہا جائے گا کہ یہ خلق میں تبدیلی ہے۔قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات اسی نسبت ِ خلق کی وجہ سے الہ یا رب ہیں۔اگر اللہ تعالی ہمارے خالق نہ ہوتے تو وہ اپنے آپ کو ہمارا الہ و رب نہ کہتے۔ سورہ اعراف میں اللہ تعالی نے اپنے رب ہونے کی دو دلیلیں دی ہیں

إِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ۔(الاعراف 7: 54)

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر بیٹھا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے)۔ یہ اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے ۔

پورے قرآن مجید میں خلق ظاہری ڈھانچے اور شکل و صورت کے معنی میں مستعمل نہیں ہے۔اس لیے یہ معنی لینا ہر گز ممکن نہیں کہ خلق اللہ میں تبدیلی کا مطلب ہے ظاہر صورت میں تبدیلی۔ اب ہم وہ آیت دیکھتے ہیں جس میں خلق اللہ کی تبدیلی کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے:

لَّعَنَهُ اللهُ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ۔ وَلأُضِلَّنَّهُمْ وَلأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الأَنْعَامِ وَلآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللهِ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا (النساء 4: 118۔ 119)

جس پر اللہ نے لعنت کی ہے (جو اللہ سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر اللہ کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔ اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور کہتا رہوں گا کہ وہ اللہ کی تخلیق کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا ۔

کسی دیوتا کے لیے جانور کی نیاز دینے کے لیے مشرکین عرب کا یہ طریقہ تھا کہ جانوروں کےکان کاٹ دیتے ، یہ ایک نشانی ہوتی تھی کہ یہ جانور اب نیاز کا ہے اسے کوئی نہ چھیڑتا تھا۔ اس آیت میں اسی رسم کی طرف اشارہ ہے۔ گویا جو کام اللہ کے لیے ہونا چاہیے تھا وہ کام یہ لوگ جھوٹے دیوتاؤں کے لیے کرتے تھے۔ یہی عمل خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔ اس لیے کہ کسی جانور کی قربانی دینا یا بلی چڑھانا صرف اور صرف خالق ِ حقیقی کا حق ہے۔ اسی کے کہنے پر جانور کی جان لینا جائز ہے ، اور اسی کے آگے اس کی نذر اور نیاز پیش کی جا سکتی ہے۔ گویا خلق اللہ میں تبدیلی دراصل خدا کے ساتھ خلق و تدبیر امور میں شریک ماننا ہے۔ سو یہ واضح رہنا چاہیے کہ خلق اللہ کی ہے کسی اور کی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ اسے متعلق کرنا چاہیے۔

اگر ہم خلق اللہ کے اس حکم کو صورت میں تبدیلی کے معنی میں لیں تو سر اور ناک کے بال کاٹنا اور مونڈنا، مونچھیں کاٹنا اور مونڈنا اور ناخن کاٹنا اور زیرناف اوربغلوں کے بال کاٹنے کو بھی خلق اللہ میں تبدیلی کہیں گے ۔ جبکہ ان میں سے کچھ کے کاٹنے کا حکم دین میں دیا گیا ہے۔ یہ درست رائے نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ بالوں کا کاٹنا خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حـکم

تمام احادیث کو اکھٹا کریں اور محتاط طریقے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ تک محدود رہیں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ

1.آپ نے وشم کرنے اور کرانے سے منع کیا ہے۔ لیکن وجہ نہیں بتائی۔ وشم کو عام طور پر اچھے لوگ پسند نہیں کرتے۔

2.آپ نے مصنوعی بال لگانے سے روکا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ دھوکا ہے۔

ان دونوں باتوں سے حکم کی نوعیت مختلف نظر آتی ہے، آپ کے احکام سے وشم صرف ناپسندیدہ عمل بنتا ہے اور بال لگانے میں اگر دھوکا دیا جارہا ہو، تو یہ ناجائز عمل ہے۔ اور اگر دھوکا نہ ہو تو یہ جائز ہو گا۔چنانچہ اوپر کی تحقیق کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ

1- Eyebrow plucking,(بھنویں بنانا)

2- Facial hair removal(چہرے کے بال صاف کرانا),

3- Making tattoos (جلد پر نقوش بنانا),

4- Filing the teeth and (دانتوں کو کھرچ کر ان کے گیپ کو بڑھانا)

5- Use of wig(سر میں مصنوعی بالوں کا استعمال)

مباحات میں سے ہیں۔ کچھ چیزیں اچھے لوگوں کو زیب نہیں دیتیں جیسے tattoos، ان سے گریز کریں، لیکن یہ حرام نہیں ہیں۔ اور باقی چیزیں اگر کوئی اخلاقی خرابی ان میں نہ ہوـ جائز ہیں ۔ اخلاقی خرابی سے مراد ہے جیسے دھوکا دینا ، جھوٹ بولنا وغیرہ ۔

چند توضيحـات

نبي صلي الله عليہ وسلم كے احكام كي نوعيت

ہم نے اوپر یہ لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیوی احکام بھی دیتے تھے۔ آپ کے ہر حکم کو دین کا حکم قرار دے دینا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہاں ایک سوال عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہو گا کہ قرآن مجید میں تو یہ آیا ہے کہ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى کہ نبی اکرم وحی کے بغیر کلام ہی نہیں فرماتے تھے۔ تو تم کیسے کہہ رہے ہو کہ آپ نے دینی باتوں کے ساتھ ساتھ دنیوی باتیں بھی کیں؟

یہ ایک اچھا سوال ہے۔ اس سے ایک بڑی حقیقت سمجھ میں آئے گی۔ وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جیتے جاگتے انسان تھے۔ وہ معاشرے میں کسی کے باپ تھے، کسی کے بیٹے تھے ، کسی کے کزن تھے،کسی کے ہمسائے تھے ،کسی کے دوست تھے، اسی طرح ایک ملک کے حکمران تھے، اور اللہ کے رسول تھے۔ رسول بننے سے آپ کی یہ تمام حیثیتیں ختم نہیں ہو گئی تھیں۔ آپ نے لوگوں کو دین سمجھانے کے لیے ان کی زندگی کی عام سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔ آپ نے جنگوں کے لیے خندق کھودی، معرکے میں اترے آپ نے سردی گرمی میں میسر لباس پہنا، اپنے تمدن اور تہذیب کے کھانے کھائے، اپنی طرز کے گھر اور مسجد تعمیر کیے اور کرائے، اونٹ اور گدھے پر سواری کی ، بکریاں چرائیں، تجارت کو گئے ، آپ نے بیوی بچوں سے پیار کے بول بولے، آپ نے غریبوں کو کمانے کی تلقین کی، کسی کو علاج معالجے کے رائج طریقے بتائے، کسی کو کھیتی باڑی میں مشورہ دیا۔ یہ سب کام آپ نے کیے۔ یہ سب دنیوی کام ہیں ، دین ان سے نہیں روکتا، یہ واجبات ِزندگی ہیں۔ ان کے بغیر کوئی جی زندہ نہیں رہ سکتا۔ آپ نے کسی غار میں زندگی نہیں گزاری کہ آپ نے کوئی دنیوی بول نہ بولے ہوں اور کوئی دنیوی کام نہ کیے ہوں۔ مثال کے طور پر میں روایات میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتے ، آپ کے اوپر آپ کے نواسے سوار ہوتے اور آپ فرماتے جاتے: نعم الجمل جملكما(بہترین اونٹ تمھارا یہ اونٹ ہے۔(معجم الکبیر 2661)کیا خیال ہے یہ وحی ہے؟ نہیں یہ عام دنیوی جملہ ہے یہ وہی پیار محبت اور لاڈ کا جملہ ہے ، جو ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے وقت بولتا ہے۔ وحی نے ہر گز آپ کو نہیں بتایا کہ (نعوذ باللہ )آپ بہترین ...... ہیں۔ اسی طرح ایک بہت ہی مشہور واقعہ ہے جس میں آپ نے مدینہ آنے کے بعد جب لوگوں کو دیکھا کہ وہ کجھوروں میں تابیر(artificial cross-pollination)کرتے ہیں ، تو آپ نے ان سے بس یہ کہا کہ ایسا کیوں کرتے ہو؟ تفصیل یوں ہے:

عن موسى بن طلحة عن أبيه قال مررت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بقوم على رؤوس النخل فقال ما يصنع هؤلاء فقالوا يلقحونه يجعلون الذكر في الأنثى فيلقح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أظن يغني ذلك شيئا قال فأخبروا بذلك فتركوه فأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك فقال إن كان ينفعهم ذلك فليصنعوه فإني إنما ظننت ظنا فلا تؤاخذوني بالظن ولكن إذا حدثتكم عن الله شيئا فخذوا به فإني لن اكذب على الله عز وجل(مسلم 1835)

موسی بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو کجھوروں کے درختوں پر اوپر چڑھے ہوئے تھے، تو آپ نے یہ پوچھا کہ یہ کیا کررہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ لوگ نر پودے کے زردانے مادہ پودے کے پھولوں میں خود ڈال رہے ہیں، تاکہ تلقيح ہو سکے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: میرا نہیں خیال کہ یہ چیز کچھ فائدہ دیتی ہو گی! تو موسی کہتے ہیں کہ جب لوگوں کو یہ بتایا گیا تو انھوں یہ عمل کرنا چھوڑ دیا۔ پھر آپ کو بتایا گیا کہ لوگوں نے آپ کے کہنے پر تابیر کرنا چھوڑ دیا ہے، آپ نے کہا کہ اگر یہ چیز ان کو فائدہ دیتی ہے تو ان سے کہو کہ وہ اسے جاری رکھیں میں نے تو بس اپنا ایک خیال ہی ظاہر کیا تھا، تو میری اس طرح کی باتیں کو نہ اپنایا کرو، لیکن جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اس کو ضرور اپنا لیا کرواس لیے کہ میں اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں کہتا۔

اس حدیث سے صاف واضح ہے کہ آپ نے دنیوی باتیں بھی کیں اور ان باتوں کو اپنانے سے روکا ہے۔ اور آپ نے جو دینی باتیں کی انھیں اپنانے کا حکم دیا ہے۔

اب رہا معاملہ اس آیت کا تو اس کے بارے میں واضح رہے کہ یہ قرآن مجید سے متعلق ہے نہ کہ آپ کی ہر بات سے ۔ چنانچہ مفسرین کی ایک بڑی تعداد جن میں طبری، قتادہ ، مقاتل، بیضاوی اور علامہ فیروزآبادی وغیرہ شامل ہیں سب کے نزدیک یہاں قرآن مجید مراد ہے۔ یعنی نبی پاک قرآن کہہ کر جو چیز سنا رہے ہیں ، وہ ان کی اپنی ہوائے نفس نہیں ہے بلکہ وحی ہے۔

مثلا علامہ طبری( 838-923ء یا 224 ۔310ھ)اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

يقول تعالى ذکره: وما ينطق محمد بهذا القرآن عن هواه ( إنْ هوَ إلاَّ وَحْی يوْحَى )يقول: ما هذا القرآن إلا وحی من الله يوحيه إليه. وبنحو الذی قلنا فی ذلك قال أهل التأويل.(تفسير الطبري: تفسير سوره النجم)

اللہ تعالی یہ فرماتے ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس قرآن میں جو کچھ کہتے ہیں ، وہ ان کی اپنے نفس کی باتیں نہیں، یہ تو بس وحی ہے جو انھیں کی جاتی ہے، مراد یہ ہے کہ یہ قرآن مجید خالصتا وحی ہے، جو اللہ کی طرف سے آپ کی طرف آتی ہے۔ (طبری کہتے ہیں کہ ) جیسی تفسیر اس کی ہم نے کی ہے ایسی ہی تفسیر اہل تفسیر نے کی ہے۔

لعن کے معنی

بعض صحابہ نے ان چیزوں کے لیے لُعِنَ ، لَعَنَ اللهُ اور لَعَنَ النبیُّ کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔یہ الفاظ بلاشبہ بہت سخت معنی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔ کہیں کہیں یہ زبان کے ایک محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جہاں اس کے معنی نہایت نرم ہو جاتے ہیں۔ مثلا لسان العرب میں اس کے معنی یوں بیان ہوئے ہیں لعَنهُ يلعَنهُ لَعْنًا طردهُ وأبعدهُ من الخير وأخزاهُ وسبَّه: لعنه يلعنه لعنا کے معنی ہیں اس نے اس کو دھتکارا، خیر سے محرومی کی بددعادی، اسے رسوا کرنے والی بات کہی یا اسے گالی دی۔ تو جب یہ الفاظ لوگوں کے لیے ، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فاعل کی نسبت سے آئیں تو اس کا مطلب صرف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کام کومعاشرتی ، سماجی یا تہذیبی معنی میں پسند نہیں کیا گیا۔ حلت و حرمت کا اس میں دخل نہ ہو۔

اسی طرح یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹے کام کے لیے لعنت کا لفظ آجائے گا۔ تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لعنت اس عمل پر نہیں بلکہ اس چیز پر کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ کام کیا جاتا ہے۔جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ آپ نے اس آدمی پر لعنت کی جو لوگوں کے حلقہ کے درمیان میں بیٹھتا ہے۔ ظاہر ہے حلقہ کے بیچ میں بیٹھنا ممنوع چیز نہیں ہے بلکہ یہ بڑائی اور تکبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی آدمی یوں لوگوں میں نمایا ں ہو کر بیٹھتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث میں خودنمائی کےشکار متکبر آدمی پر لعنت کی گئی ہے، نہ کہ محض حلقہ کے وسط میں بیٹھنے والے پر۔ یہی معاملہ ٹخنوں سے تہبند کے نیچے لٹکنے کا ہے۔ تہبند کا لٹکنا گناہ نہیں بلکہ تکبر سے ایسا کرنا گناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حدیثوں میں خیلاء کے الفاظ آئے ہیں کہ تکبر سے تہبند لٹکانا اور بعض میں إسبال کے الفاظ آئے ہیں، جس کے معنی ہی تکبر سے تہبند لٹکانے کے ہیں۔ وغیرہ۔ اسی معنی وہ جملہ ہے جو مصنوعی بال لگانے والی کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے : لعن الله الواصلة ، اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی کو دھتکارا ہے۔ اس کی وجہ بال لگانا نہیں بلکہ دھوکا دینا ہے۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث سے ہم اوپر واضح کرچکے ہیں کہ دھوکا ذکر خودنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.