پردے سے متعلق چند سوالات

سوال:

١۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان میں سورہ نور کی آیت ٦١ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ --مرد عورت اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ اس میں تم پر کوکوئی گناہ نہیں۔ اس ترجمے سے تو اکٹھے کھانے کا جواز بنتا ہے لیکن جب میں قرآن کی دوسرے ترجمے دیکھتا ہوں جیسا کہ حواشی میں جو کہ جونا گڑھ کے مولانا کا ہے تو وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اس سے مراد مردوں کا مل کر کھانا ہے اور وہ اس ترجمے میں عورت کے جنس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ اور جب میں عربی آیت بھی دیکھتا ہوں تو اس میں مرد اور عورت کا کوئی ذکر نہیں۔ تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ غامدی صاحب کا ترجمہ درست ہے؟

٢۔ میں نے ایک عرب سکالر کی کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت عمر کے دور تک اسلامی کلچر ایک جیسا تھا۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر ہاں تو اس کے بارے میں کوئی دلائل دیں۔

٣۔ عورت کے پردے کی کم سے کم حد کیا ہے؟

٤۔کیا ایک مسلمان عورت کے لیے سر کو ڈھانپنا ضروری ہے؟ اگر کوئی مسلم عورت اپنے سر کو نہیں ڈھانپتی تو کیا یہ گناہ ہے؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

سب سے پہلے آپ نے جس چیز پر معذرت کی ہے میں اس پر آپ کاشکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یعنی اردو نہ لکھنے پر۔ رومن اردو پڑھنا میرے لیے ایک سزا سے کم نہیں ہے، مگر بدقسمتی سے لوگ اردو یا انگریزی میں لکھنے کے بجائے اس نامعقول رسم الخط میں تحریر لکھتے ہیں جس کے ہجے کے اصول وہی وضع کرتے ہیں اور پھر دوسروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کے ذہن میں بیٹھ کر لکھے ہوئے الفاظ کا مطلب اخذ کرنے کی کوشش کرے۔ آپکے توسط سے دیگر قارئین سے بھی گزارش ہے ای میل انگریزی میں کریں یا اردو میں۔ ایک آدھ رومن اردو کا لفظ جس کی انگریزیں نہیں آتی چل جاتا ہے مگر پورا صفحہ پڑھنا ایک بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ اس کے بعد اب آئے اپ کے سوالات کی طرف۔ ا ن کے جوابات درج ذیل ہیں۔

١) ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے اہل علم سورہ نور کی آیت 61میں آنے والے الفاظ ''ا ن تاکلوا جميعاً او اشتاتا''کاترجمہ وہی کرتے ہیں جو آپ نے بیان فرمایا ہے کہ اس سے مردوں کا مل کر یا الگ الگ کھانامراد ہے۔ مگران اہل علم کے تمام تر احترام کے باوجود ہمیں باوجوہ اس رائے سے اختلاف ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مردوں کا مردوں کے ساتھ مل کر کھانا یا الگ الگ اور تنہا ہوکر کھانا ، یا پھر ایک تھال میں مل کر کھانا یا لوگوں کا الگ الگ اپنی پلیٹوں میں کھا نا کوئی ایسا عقد لا ینحل نہیں تھا جسے سلجھانے کے لیے پروردگار عالم جبریل امین کو عرش سے فرش پربھیجتے اور قلب نبوی پر وہ وحی نازل فرماتے جسے تاقیامت آنے والے انسانوں نے پڑھ کر ہدایت حاصل کرنا تھی۔بادنی تامل بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مسئلے سے ایمان و عقیدے اور اخلاق وعمل کی کوئی ایسی اصلاح وابستہ نہیں تھی جس کے لیے قرآ ن مجید میں اس بیان کو ہمیشہ کے لیے ثبت کردیا جاتا۔

باقی رہا وہ ترجمہ جو استاذ گرامی نے کیا ہے تو ہمارے نزدیک اس ترجمے کو صرف مردوں کے بجائے مرد و عورت دونوں سے متعلق کرنا موقع محل اور سیاق و سباق کی بناپرناگزیر ہے ۔ا ن احکام کے متعلق معلوم ہے کہ اس سورہ میں شروع میں (آیات 27تا31) مردوزن کے اختلاط کے حوالے سے جن احکام کا بیان ہوا تھا،یہ ان کے پس منظر میں کچھ ایسی وضاحتوں کا بیان کررہے ہیں جو اگر نہ کی جاتیں تو سماجی اور اجتماعی زندگی اور خاندانی روابط میں بڑی مشکلات پیش آجاتیں۔یہ مزید احکام آیت 59تا61میں بیان ہوئے ہیں اور آیت 61کے آخری الفاظ یعنی 'اللہ تمھارے لیے اسی طرح اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے '،سے یہ حقیت بالکل واضح ہے۔مزید یہ کہ یہ توضیحی آیت ختم بھی اسی حکم پر ہورہی ہے جہاں سے اصل احکام شروع ہوئے تھے۔ یعنی آیت 27میں بیان کردہ پہلی بات سے کہ سلام کرکے گھروالوں پر سلا م بھیج کر گھر میں داخل ہو۔

ظاہر ہے کہ جب اصل احکام مرد و زن کے اختلاط سے متعلق ہیں تو توضیحی احکام بھی انہی سے متعلق ہوں گے۔ان میں ضروری نہیں ہوتا کہ پوری بات واضح کرکے بیان کی جائے۔ کیونکہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں اور مسئلہ سب سے سامنے موجود ہوتا ہے۔اس لیے تفصیل میں جائے بغیر بھی بات واضح ہوجاتی ہے۔ آیت 59ہی کو دیکھ لیجیے اس میں کہیں مردوں کا ذکر نہیں ہے، مگر یہی موقع محل اور سلسلہ بیان ہے جو واضح کرتا ہے کہ بزرگ خواتین کو اپنے دوپٹے وغیرہ اتار دینے کی رعایت مردوں کے حوالے ہی سے دی گئی ہے۔ ورنہ خواتین کے سامنے اس اجازت کے بیان کی کوئی ضرورت نہیں۔

رہا سوال مخلوط مجالس کا تو اصل احکام(آیات 27تا31) میں بات ہی یہی بیان ہوہی ہے کسی جگہ مرد و زن اکھٹے موجود ہوں تو اس موقع پر مردو خواتین کو کیا آداب ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اگر بات یہ نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بعض اہل علم کہتے ہیں تو اتنی طول بیانی کے بجائے وہاں صاف صاف کہہ دینا چاہیے تھا کہ مرد اور خواتین کا اکھٹا ہونا منع ہے یا ایسے مواقع پیش آہی جائيں تو خواتین اپنے آپ کو سر تا پاؤں ڈھانپ کررکھیں۔ اس لیے مخلوط مجالس کا مسئلہ تو قرآن نے وہیں حل کردیا۔ یہاں تو بعض دیگر وضاحتوں کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ مرد و خواتین الگ الگ بھی کھاسکتے ہیں اور مل کر بھی کھاسکتے ہیں۔ اللہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، جب تک وہ حدود پوری کی جائيں جو اللہ تعالیٰ نے ایسے موقعوں پر مقرر کردی ہیں اور جن کا ذکر پیچھے ہوچکا ہے۔

باقی رہا آپ کا وہ اعتراض کہ استاذ گرامی کے ترجمے میں صیغہ مذکر کا خیال نہیں رکھا گیا تو واضح رہنا چاہیے کہ کہ زبان و بیان کی رو سے مذکر لاکر مرد و زن دونوں مراد لینے میں کوئی قباحت نہیں۔ اگر اصول یہ بنایا جائے کہ مذکر کا صیغہ استعمال کرنے کی بنا پر خواتین مراد نہیں لی جاسکتیں ،پھر تو ظاہر ہے کہ قرآن مجید کے بیشتر احکام سے خواتین فارغ ہوجائيں گی کیونکہ اکثر بیشتر مقامات پر قرآن مجید اپنے احکام مذکر کے صیغے کے ساتھ ہی بیان کرتا ہے۔یہ عربی ہی نہیں اردو میں بھی عام طریقہ ہے کہ مذکر بول کر مرد و خواتین دونوں مراد لیتے ہیں۔ اسی کھانے کی مثال سے سمجھ لیجیے کہ اردو میں ہم کہتے ہیں فلاں آدمی نے اپنے بیٹے کی شادی میں ہزار آدمیوں کوکھاناکھلایا۔ کیا کوئی شخص محض لفظ 'مرد'کی بنیاد پر خواتین کو اس تقریب سے نکال سکتا ہے؟

٢) بہت سے عر ب اسکالز نے اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان اہل علم نے اپنی کتابوںمیں اپنے نقطہ نظر کی تفصیل بھی دی ہے، ان کے حوالہ جات آپ ان اہل علم کی کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تاریخ سے کہیں زیادہ قرآن مجید واضح جگہ پر کھڑا ہوا ہے۔کسی دینی بحث میں اصل اہمیت بھی تاریخی حوالوں کی نہیں بلکہ دینی ماخذ کی ہوتی ہے۔

٣) عورتیں اپنے ہاتھ ، پاؤں اور چہرہ کھول سکتی ہیں۔یہی ان کے حجاب کا دائرہے۔

٤) دین میں ہر چیز لازمی یا باعث گناہ جیسے خانوں میں بیان نہیں کی جاتی۔سر کا ڈھاپنا بھی ایسی ہی ایک چیز ہے۔یہ ایسا حکم تو نہیں جس کے چھوڑنے پر خواتین پر عذاب ہوگا لیکن یہ اس تہذیب کا حصہ ہے جو انبیا علیہ السلام نے قائم کی ہے۔اس لیے اسے ہمیں مطلوب، محمود اور پسندیدہ چیزوں کے زمرے ہی میں بیان کریں گے اورخواتین کو تلقین کریں گے کہ یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، اس لیے اسے اختیار کریں۔

میری ناقص رائے اصل بات کو سمجھ لینا چاہیے۔اصل ممانعت ا ن چیزوں کے اظہار کی ہے جو خواتین کی نسوانیت کو نمایا ں کرکے سامنے لے آتی ہیں۔اسی پس منظرمیں زینت کی نمائش سے روکا گیا اور سینے کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔سر کے کھلے بال بغیر زینت کے بھی ،امکانی طور پر وہی نتائج پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے پسندیدہ یہی ہے کہ اجنبیوں کے سامنے ان کو ڈھانپ کر رکھا جائے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author