قانون رسالت اور جزا و سزا

سوال:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے رسولوں کے منکرین پر اللہ تعالی آسمانی عذاب نازل کرتے تھے اور مسلمانوں کو نجات دیتے تھے۔ نبی علیہ السلام کے دور میں یہ سزا صحابہ کے ہاتھوں دی گئی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر کچھ صحابہ بدر ، احد اور دوسری جنگوں میں کیوں شہید ہوئے؟اللہ تعالی نے یہاں اپنا قانون کیوں بدلا کہ مومنین کو نجات اور کامیابی ملے گی۔

یہ بھی بتائیے کہ جنت اس دنیا کے ثواب کو بھی کہا جا سکتا ہے؟ اگر اللہ تعالی رسالت کے قانون کے تحت دنیا کے معاملہ میں بھی براہ راست دخل انداز ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ صحابہ کو اجر بھی اسی دنیا میں ملے جیسے کہ منکرین کو سزا ملتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں دنیا میں جنت مل جائے۔


جواب:

صحابہ کرام کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینے کا مطلب یہ تھا صحابہ کرا م اپنے مجموعے میں یہ کام کریں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انفرادی طور پرآزمائش اور موت کا جو قانون ہے وہ کارفرما نہیں رہے گا۔حضرت موسیٰ کے زمانے میں فرعون نے قانون بنادیا تھا کہ ان بچوں کو پیدا ہوتے ہیں قتل کیا جائے گا۔ اﷲ نے حضرت موسیٰ کو تو فرعون سے تحفظ دیا تھا ، مگر دیگر لوگوں کے لیے یہ تحفظ نہیں تھا۔ چنانچہ جب جادوگر ایمان لائے تو بے رحمانہ طریقے پر قتل کردیے گا۔ یہ واقعات تو قران بیا ن کرتا ہے۔ ورنہ تواورنجانے کتنے اہل ایمان اس دور میں بھی شہید ہوئے ہوں گے۔ اس کے بعد فرعون پر سمندر کے ذریعے سے عذاب آبھی گیا تب بھی ان کا معاملہ تو وہی رہا اور ان سب پر بھی آپ کے وہی اعتراضات بنتے ہیں جو صحابہ کرام پر ہیں۔ لیکن اگر میری یہ بات واضح ہے کہ انفرادی طور پرآزمائش اور موت کا جو قانون ہے وہ ہر حال میں کارفرما رہتا ہے، تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جانا چاہیے۔ یعنی یہ سارے واقعات اس لیے ہوتے ہیں کہ دنیا میں اﷲ تعالیٰ لوگوں کو مصائب سے آزماتے ہیں اور موت اس آزمائش کی سب سے شدید قسم ہے۔ بلکہ سورہ بقرہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے ساتھیوں کے لیے مصائب اور آزمائش آنا اس راہ کا لازمی تقاضہ ہے، (کما قال اﷲ تعالی:وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ 155 ) دیکھ لیجیے کہ اس آیت صاف پیش گوئی ہے کہ تمھیں دیگر چیزوں کے ساتھ جانی نقصان سے بھی آزمایا جائے گا۔ اس پہلو سے دیکھیں گے تو صحابہ کرام کی شہادتوں کے واقعات پر کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author