قبر میں سوال و جواب سے متعلق حدیث کی توضیح

سوال:

مشکوۃ کي درج ذيل حديث کے بارے ميں وضاحت درکار ہے

اس کے بعد قبر ميں دو فرشتے قبر ميں مومن کے پاس آتے ہيں۔ آ کر اسے اٹھاتے ہيں اور اس سے سوال کرتے ہيں: تيرا رب کون ہے؟ وہ جواب ديتا ہے: ميرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہيں: تمھارا دين کيا ہے؟ وہ جواب ديتا ہے: ميرا دين اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہيں: يہ کون صاحب ہيں جو تمھارے اندر بھيجے گئے؟ وہ کہتا ہے يہ اللہ کے رسول ہيں۔ پھر اس سے پوچھتے ہيں تيرا عمل کيا ہے؟ وہ کہتا ہے: ميں نے اللہ کي کتاب پڑھي ، اس پر ايمان لايا اور دل سے اس کي تصديق کي۔ اس کے بعد ايک منادي آسمان سے پکارتا ہے کہ ميرے بندے نے سچ کہا۔ اس کے ليے جنت کے بچھونے بچھا دو ، اس کو جنت کے کپڑے پہنا دو اور اس کے ليے جنت کے دروازے کھول دو۔ چنانچہ جنت کا دروازہ اس کے ليے کھول ديا جاتا ہے جس کے ذريعے سے جنت کي خوشبو اور آرام اسے نصيب ہوتا رہتا ہے۔ اس کي قبر اتني کشادہ کر دي جاتي ہے کہ جہاں تک اس کي نظر پہنچے۔ اس کے بعد ايک نہايت خوبصورت چہرے والا بہترين لباس والا اور پاکيزہ خوشبو والا شخص اس کے پاس آ کر کہتا کہ خوشيوں کي بشارت سن لے۔ تيرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کيا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم کون ہو کہ تمھارا چہرا حقيقت ميں چہرا کہنے کے لائق ہے اور اس لائق ہے کہ اچھي خبر لاۓ۔ وہ کہتا ہے کہ ميں تيرا نيک عمل ہوں۔ اس کے بعد وہ خوشي ميں کہتا ہے کہ اے رب قيامت قائم فرما۔ اے رب قيامت قائم فرما۔ اے رب قيامت قائم فرما تاکہ ميں اپنے اہل وعيال اور مال ميں پہنچ جاؤں۔


جواب:

استاد محترم کي راۓ اس معاملے ميں يہ ہے کہ پيغمبر کے براہ راست مخاطب افراد کا فيصلہ دنيا ہي ميں ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان کے مرتے ہي ان کے نيک و بد کو ان کے انجام کے بارے ميں خبر دے دي جاتي ہے اور ان کے نيک اللہ سے انعام کے مستحق قرار پاتے ہيں اور ان کے کافر سزا کے حق دار قرار دے ديے جاتے ہيں۔ قرآن مجيد ميں شہدا کے بارے ميں زندگي اور نعمتوں کا ذکر اور فرعون کے ليے صبح وشام عذاب پر پيش ہونے کا بيان بھي اسي حقيقت کو واضح کرتا ہے۔ عام مسلمانوں کي ميزان قيامت کے دن ہي لگے گي اور وہيں انھيں ان کے انجام کے بارے ميں بتايا جائے گا۔ آپ کي نقل کردہ روايت ميں بھي اس بات کا واضح اشارہ موجود ہے۔ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے بارے ميں يہ شخص کہہ کر اشارہ کيا گيا ہے۔ ظاہر ہے يہ جواب وہي شخص دے سکتا ہے جس نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو براہ راست ديکھا ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author