قبرستان کے گرد دیوار بنانا اور قبر کو نمایاں یا پختہ بنانا

سوال:

  1. کیا قبرستان کے ارد گرد دیوار تعمیر کی جاسکتی ہے
  2. کیا ہمارے لیے اپنے عزیزوں کی قبریں نمایاں بنانی جائز ہیں یا وہ سادہ ہی بننی چاہییں؟
  3. پکی قبر بنانے کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟

جواب:

. اگر کسی جگہ اس حد بندی کی ضرورت ہو تو بالکل ایسا کیا جا سکتاہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 قبروں کو نمایاں صورت میں بنانا درست نہیں ہے، اس کی کوئی حقیقی ضرورت تو ہوتی نہیں اور دین میں اس طرح کا کوئی حکم موجود نہیں ہے۔ یہ بس انسان کا اپنا شوق ہی ہوتا ہے اور اس میں خطرے کا یہ پہلو بھی موجود ہے کہ یہ چیز بعض لوگوں کے ہاں قبر پرستی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

 قبروں کو پائدار بنانے کا تصور درست نہیں ہے۔ خدا نے تو اس قوم کی بھی تعریف نہیں کی جو پہاڑوں میں اپنے زندہ لوگوں کے لیے بڑے پائدار گھر بناتی تھی، لہٰذا پکی قبریں خدا کے نزدیک قابل تعریف کیسے ہو سکتی ہیں؟ چنانچہ قبریں کچی ہی بنانی چاہییں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author