قرض کی رقم پر منافع لینا

سوال:

کسی آدمی کو اگر اس صورت میں قرض دیا جائے کہ اصل رقم تو ہر حال میں مقروض کے ذمہ رہے، مگر اس رقم سے منافع کی صورت میں اسے بھی منافع میں شریک کیا جائے۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟


جواب:

اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ ایسا کرنا بالکل ٹھیک ہے۔ موجودہ زمانے میں لوگ اطمینان کے ساتھ دوسروں سے شراکت اور مضاربت پر پیسا لیتے ہیں اور ہاتھ جھاڑ کر کہہ دیتے ہیں کہ نقصان ہوگیاہے۔ اس لیے میں لوگوں کو ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ قرض دیجیے اور اسی وقت یہ طے کر لیجیے کہ بھئی یہ میرا واجب الادا قرض ہے۔ اگر نقصان ہوگا تو میں اس میں شریک نہیں ہوں گا، کیونکہ میں فیصلوں میں بھی شریک نہیں ہوں، البتہ اگر نفع ہو گا تو اس میں مجھے اتنا حصہ دے دیجیے گا۔ اس منافع کو سود ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔(اگست ٢٠٠٤)

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author