قوام سے کیا مراد ہے؟

سوال:

لوگ کہتے ہیں کہ عورت اور مرد برابر نہیں ہیں، اس کی تائید میں وہ قرآن مجید کی وہ آیت پیش کرتے ہیں جس میں مرد کوقوام قرار دیا گیا ہے۔ قوام سے کیا مراد ہے؟


جواب:

بطور انسان سب برابر ہیں۔ جس طرح معاشرے میں صلاحیت ، تعلیم اور حیثیت سے حقوق و فرائض میں فرق واقع ہو جاتا ہے ، اسی طرح خاندان میں بھی یہ فرق واقع ہوتا ہے۔ بطور انسان اولاد اور والدین بھی برابر ہیں،لیکن حیثیت اور مرتبے میں اولاد پر والدین کو فوقیت حاصل ہے اور دین میں بھی یہ فوقیت قائم رکھی گئی ہے۔بطور انسان عوام اور حکمران بھی برابر ہیں ، لیکن حکمرانوں کو عوام پر ایک فوقیت حاصل ہے اور دین میں بھی یہ فوقیت قائم رکھی گئی ہے۔ اسی طرح جب دو مرد و عورت میاں بیوی بن کر رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان میں سے مرد (شوہر) کو برتر حیثیت حاصل ہے۔ دین میں بھی یہ حیثیت مرد (شوہر) کو دی گئی ہے اور اس کی وجہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ یہ ایک انتظامی حیثیت ہے۔ اس کو سمجھنے اور ماننے میں گھر کی زندگی کی ترقی اور سکون کا راز مضمر ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author