قومی بچت سرٹیفکیٹ کی آمدنی

سوال:

عمر کے ساتھ ساتھ میرے سب جوڑ ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔میں صرف 2400 روپے پنشن حاصل کرتا تھا۔ اس وقت میری عمر 81 سال ہے۔ بے کاری کی مدت بھی تقریباً چھ سال ہو گئی ہے۔ اب پنشن 3000 روپے ملتی ہے۔ جو اس زمانے میں گزارے کے لیے ناکافی ہے۔ مزید یہ کہ کوئی کام ہے، نہ ہوتا ہے۔ میں نے اپنی رقم جو رکھے رکھے کم سے کم ہوتی جارہی تھی، قومی بچت کے دفتر سے سرٹیفکیٹ بہبود اسکیم لے لیے ہیں۔ ان سے بھی تقریباً 3000 روپے مل جاتے ہیں۔ اس طرح چھ ہزار روپے سے کچھ گزارہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کے ساتھ کاروبار میں لگا دوں تو یہ اندیشہ ہے کہ میں اصل رقم سے محروم ہو جاؤں گا۔ آئے دن اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ سرٹیفکیٹ کی آمدنی حرام ہے۔ بتائیے میں کیا کروں؟


جواب:

سرٹیفکیٹ سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے، وہ سود کی آمدنی ہے۔ حکومت نے عوام سے قرضہ لینے کے لیے یہ اسکیم بنائی ہوئی ہے۔ حکومت اس قرض پر عوام کو سود ادا کرتی ہے۔ آپ نے جیسے اپنے حالات لکھے ہیں، اس میں آپ کو کوئی دوسرا مشورہ دینا مشکل ہے۔ بہرحال اگر آپ اپنے آپ کو اس معاملے میں معذور سمجھتے ہیں اور آپ کے لیے کوئی اور چارہ کار نہیں ہے تو آپ اس آمدنی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ آپ کے عذر کے پیش نظر آپ کے اس معاملے سے درگذر فرمائیں گے،لیکن یہ فیصلہ آپ ہی نے کرنا ہے کہ آپ معذور ہیں اور آپ کو یہ روپے لے لینے چاہییں۔


آپ کا سوال یہی تھاجو میں نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ باقی آپ نے ان لوگوں کی مثالیں بھی دی ہیں جو لوگوں کے ساتھ دھوکا اور فریب کر کے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ آپ یہ مثالیں دے کر اپنا یہ خیال مؤکد کرتے ہیں کہ سرٹیفکیٹ کی آمدنی لینا اس طرح لوگوں کو لوٹنے سے بہتر ہے۔ دیکھیے، جس طرح ان لوگوں کی آمدنی حرام ہے، اسی طرح سود کی آمدنی بھی حرام ہے۔ صورت واقعہ کے پہلو سے اگر کچھ فرق ہے تو وہ اس کو جائز نہیں بنا سکتا۔ ہاں، ایک معذور آدمی کے نقطۂ نظر سے آپ کا اسے ترجیح دیناسمجھ میں آتا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author