قرآن ایک نظام

سوال:

میں اسلام سے متعلق مختلف کتابیں پڑھتا رہتا ہوں۔ آج کل میں پرویز صاحب کی کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ کیایہ بات درست ہے کہ قرآن ایک نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دیا ہے؟


جواب:

پرویز صاحب کا فکری کام اُس دور کی یاد گار ہے جب ہندوستان کے مسلمان براہ راست مغربی علوم وافکار کے چیلنج سے دو چار ہوئے۔ مغرب اس زمانے میں دو نظاموں کا علم بردار تھا یایہ کہنا چاہیے کہ ان کی آئیڈیالوجی نظام کے روپ میں دکھائی دے رہی تھی اور ان کی کامیابی اور غلبہ اسی نظام کی مرہون منت لگتی تھی۔ بعض لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ اسلام کی برتری دکھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے ایک نظام کے طور پر پیش کیا جائے۔ بات سرسید سے شروع ہوئی اور پرویز صاحب پر آکر اپنے منتہیٰ کو پہنچی، لیکن یہ اس چیلنج کے اثرات کی ایک صورت ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور اس دور کے بعض دوسرے علما کے ہاں بھی اس کے اثرات موجود ہیں۔ یہ لوگ مسلمہ دینی ڈھانچے کے ساتھ بھی وابستہ رہے ، اس لیے انھیں اس طرح کی تردید کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، جس طرح پرویز صاحب اور ان کے قبیل کے دوسرے افراد کو بجا طور پر کرنا پڑا۔
ہمارے نزدیک یہ ساری تحریک ایک خاص فضا کی پیداوار تھی جس میں مذہب کے اخروی پہلو کے بجاے اس کا دنیوی پہلو نمایاں رہا۔
قرآن اصل میں آخرت کا انذار ہے ، اس کی ساری دعوت کا مرکزومحور یہی ہے۔ اسے ایک نظام کی حیثیت سے دیکھنا ، اس کے احکام کی اصل حکمت وغایت سے محرومی پر منتج ہوتا ہے۔ دین کے اجتماعی زندگی سے متعلق احکام ہوں یا انفرادی زندگی سے متعلق احکام، ان کا اصل رخ بندے میں بندگی کے جذبے کی تکمیل اور اس کے اخلاقی وجود کی حفاظت کی طرف ہے۔ ان کا ہدف کسی نظام کی تشکیل نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author