قرآن دین کا تنہاماخذ

سوال:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ایک کامل کتاب قرار دیا ہے اور اس میں ہر چیز کو تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے، جیسا کہ بعض علما مختلف آیات کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر قرآن مجید کے ساتھ کسی اور چیز کو دین کا ماخذ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟


جواب:

قرآن مجید کی جن آیات میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اس کتاب میں کوئی کمی نہیں ہے اور اس میں ہر چیز کو تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے، ان کا مطالعہ کرنے سے یہ پتا چلتا ہے کہ ان میں دین و شریعت کے اجزا زیر بحث ہی نہیں ہیں، بلکہ ان میں یہ بات کسی اور پہلو سے کہی گئی ہے، یہ آیات درج ذیل ہیں۔

ارشادِ باری ہے:

١۔ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ.(الانعام٦:٣٨)

''ہم نے اپنی کتاب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔''

اس آیت کا مطلب ہے کہ:

''...جس طرح یہ کائنات ان نشانیوں سے مملو ہے جو پیغمبر کی دعوت کی حقانیت کی شاہد ہیں اسی طرح ہم نے قرآن میں بھی اپنے دلائل و براہین بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ایک ایک دعوے کو ایسے ناقابل انکار دلائل سے ثابت کیا ہے اور اتنے مختلف اسلوبوں اور پہلووں سے حجت قائم کی ہے کہ صرف عقل و دل کے اندھے اور بہرے ہی ان کے سمجھنے سے قاصر رہ سکتے ہیں۔'' (تدبر قرآن٣/ ٤٩)

٢۔ لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ، مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَلٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْءٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ.(یوسف١٢:١١١)

''ان کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی چیز نہیں، بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔''

امین احسن اصلاحی اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''یعنی پچھلے انبیا اور ان کی قوموں کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ یہ عقل سے کام لیں اور ان سرگزشتوں کو صرف دوسروں کی حکایت سمجھ کر نہ سنیں، بلکہ ان سے خود اپنی زندگی کو درست کرنے کے لیے سبق حاصل کریں۔ یہ قرآن کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ جو پیشین گوئیاں اور جو حقائق آسمانی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں یہ ان کی تصدیق، ہر متعلق چیز کی تفصیل، آغاز کے اعتبار سے رہنمائی اور انجام کے اعتبار سے رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔'' (تدبر قرآن٤/ ٢٦٠)

٣۔ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ.(النحل ١٦:٨٩)

''اور ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو کھول دینے کے لیے اور وہ ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرماں برداروں کے لیے۔''

امین احسن اصلاحی صاحب فرماتے ہیں:

''...یہ اس چیز کا حوالہ ہے جو اس دنیا میں حق کی گواہی اور لوگوں پر اتمام حجت کا ذریعہ ہے۔ فرمایا کہ تمھارے اسی فرض منصبی کے تقاضے سے ہم نے تم پر کتاب اتار دی ہے جو شہادت حق کے لیے تمام پہلووں سے جامع اور مکمل اور ہر متعلق چیز کو اچھی طرح واضح کر دینے والی ہے تا کہ کسی کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔'' (تدبر قرآن٤ / ٤٣٨)

٤۔ وَکُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰہُ تَفْصِیْلًا.(بنی اسرائیل١٧:١٢)

''اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کر دی ہے۔''

امین احسن اصلاحی صاحب فرماتے ہیں:

''...یعنی آفاق کی ان نشانیوں کے علاوہ ہم نے تم پر یہ احسان بھی کیا ہے کہ اپنی اس کتاب میں بھی ہر ضروری چیز کی تفصیل کر دی ہے تا کہ غور کرنے والے کے اطمینان کے لیے یہ کتاب ہی کافی ہو جائے۔'' (تدبر قرآن٤/ ٤٨٧-٤٨٨)

درج بالا آیات کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید میں ہر چیز کے موجود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جو دعوت دی گئی ہے اور حق کی شہادت کے حوالے سے جو استدلال کیا گیا ہے ، اس میں کوئی کمی نہیں ہے اور وہ ہر پہلو سے جامع ہے۔ چنانچہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کتاب اجزاے دین کے بیان اور ان کی تفصیلات کے پہلو سے مکمل ہے۔ اجزاے دین کے حوالے سے کئی چیزوں کو اس میں بیان ہی نہیں کیا گیا، مثلاً نماز کی رکعتیں، اوقات اور دیگر تفصیلات، زکوٰۃ کی شرحیں، مو نچھیں پست رکھنا، عید الفطر اور عید الاضحی وغیرہ۔ شریعت سے متعلق یہ اہم چیزیں قرآن مجید میں موجود ہی نہیں۔

چنانچہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید اس پہلو سے جامع ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے دین کے سب اجزا بیان کر دیے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا دین ایک رسول کے ذریعے سے دیا ہے اور یہ بات ایک تاریخی سچائی ہے کہ اس رسول نے خدا کا یہ دین ہمیں علم کی صورت میں بھی دیا ہے اور عمل کی صورت میں بھی۔ جو دین ہمیں علم کی صورت میں ملا ہے، وہ سارے کا سارا قرآنِ مجید میں ہے اور جو عمل کی صورت میں ملا ہے، وہ وہ سنت ہے، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت میں جاری کیا ہے۔

چنانچہ اگر ہم قرآن کے علاوہ سنت کے اس ذریعے کا انکار کرتے ہیں تو پھر ان سب اعمال کو ہم بطور دین قبول ہی نہیں کر سکتے۔بے شک ان میں سے بعض چیزوں کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے، لیکن اس میں وہ ذکر اس طرح سے ہے کہ گویا یہ پہلے سے موجود اور متعارف چیزیں ہیں،جن پر لوگ عمل کر رہے ہیں اور قرآن محض کسی خاص پہلو سے ان کا ذکر کر رہا ہے۔ جب یہ حقیقت ہے تو پھر پورا دین حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن اور سنت، دونوں کی طرف رجوع کریں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author