قرآن مجید کی آیات کی سائنسی تفسیر

سوال:

بہت سے علما قرآن مجید کی آیات کی سائنسی تفسیر کرتے ہیں۔ آپ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے۔ یہ دین کی رہنمائی کی کتاب ہے اور اس کی طرف رجوع اسی غرض سے کرنا چاہیے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ آیات جن میں وہ چیزیں بیان ہوئی ہیں جو سائنسی موضوعات سے متعلق ہیں، ان کی تفسیر سائنسی طریقے سے کیوں نہیں کر سکتے؟


جواب:

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن مجید پیغمبرانہ انذار کی کتاب ہے اور اس کا اصل موضوع خدا کی اسکیم سے آگاہی اور اس کی بندگی کے اصول و ضوابط کی تلقین ہے۔ اس میں اس کائنات اور انسان کے وجود میں خدا کی تخلیق کے بعض پہلوؤں کا ذکر ضرور ہے، لیکن اس کا ہدف بھی اصل میں بندوں کو ان کے پروردگار کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت کا ادراک پیدا کرنا ہے۔ کوئی سائنسی اکتشافات قرآن کا موضوع نہیں ہیں۔

سائنسی اکتشافات کے حوالے سے دو رویے پیدا ہوئے ہیں: ایک رویہ یہ ہے کہ سائنس دان جو کچھ بھی دریافت کریں، اس کا کوئی نہ کوئی سراغ قرآن مجید سے نکال لیا جائے۔ اس کے لیے بعض لوگ قرآن کے الفاظ اور سیاق وسباق کو نظر انداز کرکے من مانی تاویل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، یہ رویہ صریح طور پر غلط ہے، اس لیے کہ کچھ معلوم نہیں کہ کل سائنس کا کو ئی قانون یا نظریہ کسی نئی دریافت کے نتیجے میں تبدیل ہو کر رہ جائے اور ہم نے جس بات کو اپنی نادانی سے خدا کی بات بنا دیا تھا، وہ غلط ثابت ہو جائے۔دوسرا رویہ وہ ہے جسے آپ نے بھی بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں زمین وآسمان اور انسان کی تخلیق یا ساخت کے بارے میں کچھ بیانات ہیں ۔ یہ بیانات انھی الفاظ اور تعبیرات میں ہیں جن میں نزول قرآن کے زمانے کا عرب انھیں سمجھ سکتا تھا اور اس کا کچھ نہ کچھ شعور بھی رکھتا تھا۔یہ درست ہے کہ یہ بیانات کبھی غلط نہیں ہو سکتے اور نئی سائنسی دریافتیں اگر ان کی تائید کرتی ہیں تو اس سے ان کے خدا کا کلام ہونے کا پہلو مزید نمایاں ہوتا ہے، لیکن یہاں بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ ہم قرآن کے الفاظ میں وہ معنی داخل کردیں جو ان کا حصہ نہیں تھے اور کل کی کوئی نئی دریافت ہمیں اپنی بات واپس لینے پر مجبور کردے۔
اصل یہ ہے کہ سائنس کی دریافتیں قرآن کی تائید کریں یا نہ کریں، قرآن اپنی جگہ پر اٹل ہے۔ ہمیں اس کی حقانیت انھی دلائل سے ثابت کرنی چاہیے جو ہمیشہ کار آمد ہیں اور جن پر بوسیدگی طاری نہیں ہوتی۔ ہاں، محتاط طریقے سے اگر سائنسی دریافتوں کو قرآن کے مقدمات کے حق میں استعمال کیا جائے تو اس کے مفید ہونے میں شبہ نہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author