قراٰن مجید کلام اللہ یا قول رسول؟

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ علماء قرآن مجید کو کلام اللہ کیوں کہتے ہیں۔ جب کہ قرآن میں اسے واضح طور پر

 "انه لقول رسول کريم" 

کہا گیا ہے؟ برائے مہربانی میری کم علمی درگزر فرمائیں اور اس قول خدا کی وضاحت اپنے نقطہ نظر سے فرمائیں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے ۔ آپ کا خیال ہے کہ قرآن کلام جبریل ہے اور اس کے لیے آپ نے سورہ حاقۃ اور سورہ تکویرکی آیت 

'انه لقول رسول کريم' (69 : 40)، (81 : 19)

 کا حوالہ دیا ہے ۔ ان دونوں مقامات پر لا ریب رسول کریم سے جبریل علیہ السلام ہی مراد ہیں ۔ پھر آپ نے سورہ توبہ کی اس آیت کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں قرآن مجید کو کلام اللہ بھی کہا گیا ہے ۔ 

حتی يسمع کلام الله (9 : 6)

قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے ایسی آیات بھی آتی ہیں جن میں متکلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں ۔ ایسی آیات بھی آتی ہیں جن میں متکلم جبریل علیہ السلام ہوتے ہیں لیکن بالعموم کلام میں متکلم اللہ تعالی ہی ہوتے ہیں ۔ آپ اللہ تعالی کے لیے غیب کے صیغوں کے استعمال یا جمع متکلم کے صیغوں کے آنے سے یہ طے نہ کریں کہ یہ کلام اللہ نہیں ہے ۔ یہ دونوں اسلوب اللہ تعالی کی علوشان کے باعث اختیار کیے گئے ہیں ۔ ہر زبان میں بلند مرتبت ہستیاں اپنے لیے یہ دونوں صیغے استعمال کرتی ہیں ۔

حضرت جبریل کا کلام اسے اللہ تعالی کے مقرر کردہ معزز ترین ‎پیغام بر کے لانے کی وجہ سے کہا گیا ہے اور مراد یہ واضح کرنا ہے کہ اس کلام کا شیاطین سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ جب کہ کلام اللہ ہونا اس کی اصل حقیقت ہے ۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author