قرآن کے ايک دعوے کا مفہوم

سوال:

قرآن کے اس دعوے کا کیا مطلب ہے کہ اگر تم اسے خدا کا کلام نہیں سمجھتے تو اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھاؤ؟ میرا سوال یہ ہے کہ انسان قرآن کی مثل کلام کیوں نہیں بنا سکتا ، میرا خیال ہے کہ وہ بنا سکتا ہے خواہ کچھ غلط سلط ہی بنا دے؟


جواب:

قرآن کے اس دعوے کا مطلب یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو سمجھتے ہو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم جو کلام لائے ہیں، یہ انسانی کاوش ہی ہے، یہ خدا کا کلام نہیں ہے اور اس میں خدائی صفات کا ظہور نہیں، یعنی یہ خدائی خوبیوں کا حامل اور ہر غلطی سے مبرا کلام نہیں ہے تو ایسا ہی کلام تم بھی بنا کر دکھا دو۔ پھر اگر تم نہ بنا سکو تو اس کلام کی آنکھوں سے نظر آنے والی عظمت کو مانو اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔

استاذ محترم غامدی صاحب قرآن مجید کے اسی دعوے سے متعلق سورہ بقرہ کی آیت ٢٣ کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''...تم اگر اسے خدا کی کتاب نہیں سمجھتے تو اپنی ہدایت اور اسلوب بیان کے لحاظ سے جس شان کا یہ کلام ہے، اس شان کی کوئی ایک سورہ ہی بنا کر پیش کر دو۔ تمھارے گمان کے مطابق یہ کام اگر تمھاری قوم کے ایک فرد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر سکتے ہیں تو تمھیں بھی اس میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے۔ اپنے متعلق یہ قرآن کا چیلنج ہے جو اُس نے اپنے اولین مخاطبین کو دیا اور اُن میں سے کوئی بھی اس کا سامنا کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔'' (ماہنامہ اشراق، مارچ١٩٩٩،٩)

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author