قرآن کے تراجم اور آیات متشابہات

سوال:

جناب عرض یہ ہے کہ میں اسلام کے معاملہ تلاش حق میں سرگرداں ہوں ۔ میں نے بہت سے علماء کو سنا جن میں سے مجھے غلام احمد پرویز صاحب مجھے بہت پسند آئے۔ پھر مجھے جاوید احمد غامدی صاحب کی باتوں میں کشش نظر آئی۔ اب میں پرویز صاحب کی آراء کو درست نہیں سمجھتا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ قرآن کا کوئی بہتر ترجمہ مجھے مل جائے جو میں بآسانی سمجھ سکوں۔ لیکن اس معاملہ میں بھی میں علماء کے مابین اختلاف پاتا ہوں۔ اور میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ متشابہات آیات کے بارے میں قرآن کیا کہتاہے؟ آپ اپنے نظریہ کے مطابق وضاحت کریں۔


جواب:

یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ آپ دین اسلام کو اچھی طرح سمجھ کر اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی مدد فرمائیں اور آپ کو اس راستے میں ثابت قدم رکھیں ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید اپنی اصلی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ تمام علماء اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس کی شرح و تفصیل کرتے ہیں۔ ان انسانی کاوشوں میں غلطی کا امکان رہتا ہے۔ اس سے دین پر کوئی حرف نہیں آتا۔ ایک عام آدمی عقل و فطرت کی روشنی میں ان تمام مکاتب فکر میں سے کسی ایک کو اختیار کرتا ہے اور اس پر وہ عند اللہ ماجور ہوتا ہے۔ جس طرح ہم طب کے ڈاکٹروں کی بات کو اپنی جسمانی بیماریوں اور مسائل میں اختیار کرتے ہیں اسی طرح ہم مذہبی سکالرز کی آراء کو بھی اختیار کرتے ہیں۔ ہر انسان ہر چیز اور ہر مسئلہ کے بارے میں مکمل علم نہیں رکھ سکتا ۔ نہ ہی انسانی کاوشوں میں غلطی کے امکان کو رد کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہمیں ہر معاملہ میں درست نیت اور بھرپور کوشش کے بعد ایک رائے کو اختیار کرنا ہوگا۔ سکالرز کی آراء میں اختلاف کو برداشت کرنا ہو گا۔

جہاں تک متشابہات کے بارے میں ہماری رائے کا تعلق ہے اس کے لئے درج ذیل مضمون کا مطالعہ فرمائیں: http://al-mawrid.org/pages/articles_urdu_detail.php?rid=1331&cid=412

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author