قرآن خوانی اور قل

سوال:

کیا قل، دسواں، چالیسواں اور ختم وغیرہ اسلام میں جائز ہیں۔ نیز مرنے والے کے لیے جو قرآن خوانی کرائی جاتی ہے اس سے اس کو کوئی ثواب پہنچتا ہے؟


جواب:

آپ جب بھی دین کے معاملے میں کوئی کام کریں تو ایک سوال اپنے آپ سے ضرور کر لینا چاہیے، وہ یہ کہ کیا یہ کام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے یا آپ نے لوگوں کو کرنے کے لیے کہا ہے؟ اگر ایسا کوئی کام دین کی حیثیت سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو پھر وہ نہیں کرناچاہیے کیونکہ اس سے دین میں نئی نئی چیزیں پیدا ہوتی ہیں، جن کو بدعت کہتے ہیں۔ اس کے لیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر تنبیہ کی کہ میں نے دین کو واضح طور پر تم تک پہنچا دیا ہے۔ اب اس میں کوئی نئی چیز پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو۔ دین کے معاملے میں بہت محتاط رہنا چاہیے، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق( Sanction )کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قل، دسواں، چالیسواں یا جو ختم کی محفلیں کی جاتی ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع (شریعت کا حصہ بنانا)کیا ہو۔ ہمارے دین میں مرنے والے کے لیے جو آداب قائم کیے گئے ہیں وہ وہی ہیں کہ آپ تجہیز و تکفین کرتے ہیں، دفن کرتے ہیں، جنازہ پڑھتے ہیں۔ یہ چیزیں ہیں جو دین میں مشروع کی گئی ہیں۔ باقی سب لوگوں کی ایجاد ہیں۔

جہاں تک مرنے والے کو ثواب پہنچانے کا تعلق ہے تو اس بارے میں قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ انسان کو وہی ملے گا، جس کی اس نے جد وجہد کی ہے۔

ليس الانسان الا ما سعیٰ (النجم ٥٣:٣٩) 

البتہ، آپ دعا کر سکتے ہیں، دعا اللہ کے حضور میں درخواست ہے، وہ چاہیں گے قبول کر لیں گے، چاہیں گے قبول نہیں کریں گے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author