قرآن كی آيات كا دم كرنا

سوال:

ميں نے ذندگی ميں اكثر ديكھا ہے كہ لوگ بيمار ہوتے ہيں تو ان پر قرآن كی آيات پڑھ كر دم كيا جاتا ہے۔ جو لوگ يہ كرتے ہيں وه ساتھ ميں يہ كہتے ہيں كہ قرآن مجيد ميں ہر بيماری كا علاج ہے۔ آپ كی اس بارے ميں كيا رائے ہے؟ كيا ايسا كرنا ٹھيك ہے؟ دم كے حوالے سے ايك صحيح حديث ہے جس كا مفہوم يہ ہے كہ نبی صلی الله عليہ و سلم چار قل پڑھ كے اپنے اوپر دم كيا كرتے تھے۔ براہ كرم وضاحت فرمائيں۔


جواب:

شفا کے لیے قرآن مجید سے آیتیں پڑھ کر دم کرنا ہمارے ہاں عام رائج ہے۔ قرآن سے علاج اور عملیات قرآنی جیسے موضوعات پر کتابیں بھی بازار میں دستیاب ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات نہ قرآن مجید پر مبنی ہے اور نہ کسی حدیث پر مبنی ہے۔ یہ بات اس قیاس پر مبنی ہے کہ کہ قرآن مجید چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اس کلام کے کلمات میں بھی وہ تاثیر ہو گی بلکہ زیادہ ہو گی جو جادو ٹونے کے الفاظ میں پائی جاتی ہے۔ الفاظ میں تاثیر کا فن انسانوں کا خود ساختہ ہے۔ قرآن کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فن اپنے کچھ اثرات بھی رکھتا ہے لیکن اثر قرآن کی آیات میں بھی ہے اس کی تائید جیسا کہ ہم نے عرض کیا نہ قرآن سے ہوتی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے آپ نے اپنے اوپر دم کرنے کے جس طریقے کا ذکر کیا ہے وہ قرآن کی سکھائی ہوئی دو دعاؤں (معوذتین) سے متعلق ہے۔ چنانچہ دعا مانگ کر اپنے اوپر یا کسی اور پر دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہوں پر بھی دعائیہ کلمات آئے ہیں۔ ان کو اور دوسری دعاؤں کو پڑھ کر پھونکنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author