قرآن کی رو سے علما کی حیثیت

سوال:

قرآن کی رو سے علما کی کیا حیثیت ہے۔ تاريخ سے ثابت ہے کہ ہر مذہب کو ان علما ہی نے بگاڑا ہے۔ کیا ان کی اطاعت فرض ہے؟


جواب:

علما کی حیثیت قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن عام لوگ صرف واجبی معلومات تک محدود رہتے ہیں اور استعداد اور ذوق رکھنے والے لوگ قرآن وسنت کو براہ راست سمجھنے کی اہلیت پیدا کر لیتے ہیں۔ اس سے ملتی جلتی مثال طب کی ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نسخے معلوم ہوتے ہیں لیکن یہ سارے لوگ علاج کے لیے بہرحال حکیم کے پاس جانے پر مجبور ہیں۔ یہی معاملہ علوم دینیہ کے ماہرین کا ہے۔ دین سیکھنے اور سکھانے کا عمل انھی پر منحصر ہے۔ یہ ایک فطری پوزیشن ہے جو ہر فن میں اس کے ماہرین کو حاصل ہوجاتی ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ علما بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ جس زور سے آپ نے یہ بات کہی ہے کہ علما بگاڑ پیدا کرتے ہیں اسی زور سے یہ بات بھی کہی جائے گی کہ علما ہی اس بگاڑ کی نشاندہی کرتے اور اصلاح احوال کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔

عام آدمی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دین کی حیثیت سے صرف اسی چیز کو قبول کرے جس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ اگر تمام لوگ اس میں حساس ہو جائیں تو بگاڑ پیدا کرنے والا علما کا سد باب ہو جائے گا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author