قرآن مجید کی تعلیم اور اچھا معاشرہ

سوال:

اگر قرآن مجید کا علم عام ہو جائے تو کیا اس سے اخلاقی، سیاسی اور ملکی معاملات حل ہو جائیں گے اور ایک اچھا معاشرہ قائم ہو جائے گا؟


جواب:

اس میں دو الگ الگ چیزیں ہیں ،جن کو سمجھنا چاہیے۔ پہلی چیز تو طبعی علوم ہیں۔ان میں ہمارے ہاں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔یعنی نہ Reformationہو سکی، نہ Renaissanceہو سکا، اور نہ ہی سائنسی انقلاب سے ہم نے فائدہ اٹھایا۔ اس معاملے میںہم دنیا کے ساتھ چل ہی نہیںسکے اور پیچھے رہ گئے۔ اور ایک خاص جگہ پر پہنچ کر ہمارے ہاں سب کچھ رک گیا۔ اس سے آگے ہم دیکھ ہی نہیں سکے۔ اس کے بعد سے ہم اصل میں receiving end پر ہیں۔ مغرب سے جو کچھ آتا ہے، کسی نہ کسی حد تک اس کو کبھی نگلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور کبھی اگلنے کی، اسی میں ہماری دوتین صدیاں گزر گئی ہیں۔ خود ہمارے ہاںعلوم کے معاملے میں وہ رویہ پیدا ہی نہیں ہوا جو مغرب میں پیدا ہوا۔ اور اس وقت بھی ہمارے ہاں کوئی تنقیدی مزاج نہیں ہے۔ ہم تاریخی معاملات میں، اپنی شخصیات اور افکار سے متعلق بھی تنقیدی رویہ اپنے اندر پیدا کر ہی نہیں پاتے۔ اس طرح کی چیزوں کو بھی ہم جذبات سے دیکھتے ہیں۔ اس لےے ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ترقی کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ بے رحمانہ تنقید کا ذوق اپنے اندر پیدا کیا جائے یعنی جو چیز بھی آپ کے ہاں موجود ہے، آپ اس کو ادھیڑ کر دکھا سکیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس سے چیزیں اپنی جگہ سے ہل جائیں گی۔ لیکن اس سے چیزیں اپنی جگہ سے ہلیں گی نہیں، بلکہ وہ اپنی صحیح جگہ پر آ جائیں گی۔ اسی سے اصل میں انسان آگے بڑھتا ہے، ترقی کی راہ یہی ہے۔ ہمارے ہاں یہ چیز کسی علم میں بھی جائز یا روا نہیں رکھی جاتی۔ علمی و فکری زوال کی وجہ تو یہ رويے ہیں۔ لیکن ہمارے اخلاقی وجود کی حفاظت قرآن کو کرنا تھی۔ جس مقصد کے لیے وہ آیا تھا اس میں بھی ہم پستی میں جا چکے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ہم طبعی علوم میں پیچھے چلے گئے ہیں، بلکہ ہمارے ہاں دیانت، امانت، لوگوں کے حقوق کا تحفظ، ہمسایے کا خیال یہ سب چیزیں بالکل بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ ہماری بنی ہوئی دوا کے بارے میں بھی اعتماد نہیں ہوتا کہ یہ مریض کو دی جا سکتی ہے یا نہیں۔جب یہ صورت حال کسی قوم کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد وہ دنیا میں کیسے کھڑی ہو سکتی ہے؟دنیا میں آپ یا علم کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں یا اخلاق کی بنیاد پر۔ علم و اخلاق دونوں میں آپ امتیاز کی جگہ پر چلے جائیں تو دنیا کے اندر آپ کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔ ان دونوں لحاظ سے ہم پست ہو گئے ، یعنی قرآن مجید کو ہمارے اخلاقی وجود کو جس طریقے سے کنٹرول کرنا تھا، وہ چیز بھی ختم ہو گئی اور علوم میں ترقی کر کے جہاں ہمیں جانا تھا ، اس کو بھی ہم نے قابل توجہ نہیں سمجھا۔

دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو لیڈر شپ پیدا ہوئی، اس نے اس صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بجائے ہمیں تین نکاتی لائحہ عمل دے دیا۔ پہلا یہ کہ لوگوں کے اندر جذبہ جہاد پیدا کیا جائے، اس کے نتیجے میں آپ برتری کے مقام پر پہنچ جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ مسلمان اپنے حقوق کے لیے دنیا کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اور تیسرا یہ کہ ہمارے پاس جو کچھ شریعت ہے، وہ پورا کا پورا ایک نظام ہے، اگر ہم اس کو نافذ کر دیں تو اس سے دودھ کے سوتے بہنے شروع ہوجائیں گے۔ یہ تینوں ہی باتیں اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ۔

دنیا میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس کے تحت قوموں کو عروج و زوال حاصل ہوتا ہے۔ اس میں جذبہ بھی بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہے، لیکن کچھ بنیادیں موجود ہوں تو جذبہ کام کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بنیاد ہی نہیں ہے اور محض جذبے کی بنیاد پر آپ کوئی نتیجہ حاصل کر لیں۔ جب آپ علمی لحاظ سے بہت پیچھے رہ جائیں، جب آپ کی اقتصادی حالت انتہائی پست ہو جائے، جب آپ کے ہاں جہالت عام ہو جائے، جب آپ کا اخلاقی وجودخوف ناک انحطاط میں چلا جائے تو اس میں محض جذبہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ہماری قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ اس صورت حال کا تجزیہ کر کے مسلمانوں کی تعمیر کا کام کرتی، تہذیب نفس کا کام کرتی، اور ان میں علم کا ذوق پیدا کرتی۔ چاہیے تھا کہ ہم آپس کے جھگڑے کچھ دیر کے لیے اٹھا کے رکھ دیں، ہم دنیا کے ساتھ مزاحمت کی تحریکیں چلانے کے بجائے، پہلے دنیا سے سیکھنے کی کوشش کرتے۔ اپنے آپ کو اس جگہ پہنچاتے جہاں دنیا پہنچ چکی ہوئی تھی۔ جب علم کے لحاظ سے اپنے آپ کو وہاں پہنچا لیتے تو پھر حق و انصاف کے لیے بھی کوئی جد و جہد کر لیتے۔ ہم نے جو پہلے کرنے کا کام تھا اس کو دوسرے درجے میں رکھ دیا۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author