قرآن میں اہل کتاب کی تحسین کی وجہ

سوال:

سورہ آل عمران میں اہل کتاب کے بعض افراد کے بارے میں تحسین اور تعریف کے کچھ کلمات ہیں اور ان کے ایمان دار ہونے کا ذکر موجود ہے، مثلاً

 'یَتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ'،'یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ' اور 'اُولٰۤئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ'۔ 

کیا قرآن مجید کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے باوجود صالح اور مومن ہی قرار دیے جا رہے ہیں؟

کیا ان کا یہ مومن اور صالح ہونا صرف عنداللہ ہے، یعنی آخرت کے حوالے سے ہے یا پھر دنیوی قانون کے لحاظ سے بھی وہ مومن اور صالح ہی متصور ہوں گے؟

اگر وہ دنیوی پہلو سے بھی مومن ہی ہوں گے تو پھر کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس کے اخلاقی حدود و قیود کو مانتا ہے اور اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی ایک کو بھی مانتا ہے تو وہ شخص مومن ہو گا؟جیسا کہ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی درج ذیل آیات سے یہ بات ثابت بھی ہوتی ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ.(٢:٦٢)
قُلْ یٰۤاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْۤا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ.(٣:٦٤)

جواب:

اہل کتاب کے بارے میں تحسین اور تعریف کے جن کلمات کا آپ نے ذکر کیا ہے، انھیں ان کے سیاق و سباق کے ساتھ دیکھیے تو وہ اشکال رفع ہو جاتا ہے جو آپ نے بیان کیا ہے۔ یہ آیات درج ذیل ہیں:

وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ.لَیْسُوْا سَوَآئً، مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ، یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰۤـئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ، وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ، وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ.(آل عمران٣:١١٢-١١٥)

''اور ان(یہود) پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیتوں کا انکار اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں، کیونکہ یہ نافرمان اور حد سے آگے بڑھنے والے رہے ہیں۔سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ عہد پر قائم ہے۔ یہ رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے اور سجدہ کرتے ہیں، اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، معروف کا حکم دیتے، منکر سے روکتے اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں اور یہ لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں۔ اور جو نیکی بھی یہ کریں گے تو اس سے محروم نہیں کیے جائیں گے اور اللہ خدا ترسوں سے باخبر ہے۔''

ان آیات میں جن صالح اہل کتاب کا ذکر ہے، ظاہر ہے وہ لوگ انھی آیات میں بیان کردہ غیر صالح اہل کتاب کے بالکل برعکس ہیں، یعنی نہ یہ لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے تھے اور نہ یہ اس کے نبیوں کی تکذیب کرنے والے تھے۔ چنانچہ مفسرین نے یہ بات واضح کی ہے کہ ان صالح اہل کتاب میں سے بعض نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر علانیہ ایمان لا چکے تھے اور بعض دل سے ایمان لا چکے تھے، لیکن ابھی انھوں نے اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔

اور ایسا کیوں نہ ہوتا، کیونکہ ان کی اپنی کتابوں کے مطابق یہ لازم تھا کہ وہ اس نبی امی پر ایمان لائیں جسے وہ اپنی کتاب میں لکھا ہوا پاتے تھے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ، اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہ، مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ.(الاعراف٧:١٥٦-١٥٧)

''اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے، سو میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ رکھوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔ جو پیروی کریں گے، اس نبی امی رسول کی جسے وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔''

چنانچہ قرآن مجید نے جن اہل کتاب کی تعریف کی ہے اور جو واقعی صالحین تھے، وہ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔اور پھر وہ ایمان کیوں نہ لاتے ، جبکہ سورہ مائدہ میں انھیں یہ بتا دیا گیا تھا کہ اس نبی پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ یٰۤاَہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ.(المائدہ٥:٦٨)

''کہہ دو اے اہل کتاب، تمھاری کوئی بنیاد نہیں ہے، جب تک تم تورات، انجیل اور اس چیز کو قائم نہ کرو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، وہ ان میں سے بہتوں کی سر کشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو۔''

اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اہل کتاب کے لیے اپنی کتابوں کو ماننا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب پر ایمان لانا ضروری تھا۔

چنانچہ یہ خیال تو باطل محض ہے کہ اہل کتاب کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں تھا۔

رہا سورہ بقرہ کی آیت ٦٢ کا معاملہ تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہود و نصاریٰ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں تھا یا آج نہیں ہے، کیونکہ یہ مفہوم تو بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن کی اس ساری دعوت کے خلاف ہو گا جس سے متعلق بعض آیات کا ابھی ہم نے مطالعہ کیا ہے۔

سورہ بقرہ کی اس آیت کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس کے سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے۔

استاذ محترم غامدی صاحب نے ان آیات کا ترجمہ و تفسیر ،اپنی تفسیر ''البیان'' میں درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:

وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ.(البقرہ٢: ٦١-٦٢)

''(وہ یہی کرتے رہے) اور ان پر ذلت اورمحتاجی مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کا غضب کما لائے۔ یہ اِس وجہ سے ہواکہ وہ اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے تھے اور اُس کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے ۔یہ اِس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی کسی حد پر نہ رہتے تھے۔ (اِن پر اس عذاب کو دیکھو، یہ بتاتا ہے کہ نجات کسی گروہ کے لیے خاص نہیں ہے۔ اس لیے) وہ لوگ جو اب مسلمان ہوئے ہیں اور جو (اِن سے پہلے) یہودی ہوئے اور جو نصاریٰ اور صابی کہلائے، اُن میں سے جن لوگوں نے بھی (اپنے اپنے وقت میں) اللہ کو فی الواقع مانا اور اسی طرح قیامت کے دن کو مانا اور نیک عمل کیے ہیں، صرف اُنھی کا صلہ اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور (اُس کے حضور میں) اُن کے لیے کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ وہ کوئی غم (وہاں) کھائیں گے۔''(ماہنامہ اشراق، نومبر ١٩٩٩،٩-١١)

ان آیات کی شرح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

''... یہ ذلت اور مسکنت اس لیے ان پر تھوپی گئی کہ انھوں نے پے در پے جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنی سر کشی اور تعدی کے باعث ہر حد توڑ دی ،یہاں تک کہ اللہ کے نبیوں تک کو قتل کر ڈالا۔... قرآن نے واضح کر دیا کہ ان کے انبیا کی اولاد ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان جرائم کے بعد انھیں چھوڑ نہیں دیا ، بلکہ ان کی پاداش میں انھیں پکڑا اور اسی دنیا میں ان کے جرائم کی سزا اُنھیں دی ۔

... اس (سلسلہ آیات) میں قرآن نے یہ بات نہایت غیر مبہم طریقے پر واضح کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی شخص کو فلاح محض اس بنیاد پر حاصل نہ ہو گی کہ وہ یہود و نصاریٰ میں سے ہے یا مسلمانوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے یا صابی ہے ، بلکہ اس بنیاد پر حاصل ہو گی کہ وہ اللہ کو ، اور قیامت کے دن کو فی الواقع مانتا رہا ہے اور اُس نے نیک عمل کیے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگوں کو اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا ،اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ ہو گا۔ یہود کا یہ زعم محض زعم باطل ہے کہ وہ یہودی ہونے ہی کو نجات کی سند سمجھ رہے ہیں۔ یہ بات ہوتی تو اللہ دنیا میں بھی ان کے جرائم پر ان کا مواخذہ نہ کرتا، لہٰذا وہ ہوں یا مسلمان یا کسی اور مذہب و ملت کے پیرو ، اُن میں سے کوئی بھی محض پیغمبروں کو ماننے والے کسی خاص گروہ میں شامل ہو جانے سے جنت کا مستحق نہیں ہو جاتا، بلکہ اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان اور عمل صالح ہی اس کے لیے نجات کا باعث بنتا ہے۔'' (ماہنامہ اشراق، نومبر ١٩٩٩،١٠-١١)

(ان آیات میں نجات کی) یہ بشارت، ظاہر ہے کہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ آدمی نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کیا ہو جو ایمان اور عمل صالح کے باوجود اسے جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے ، مثلاً : کسی بے گناہ کو قتل کر دینا یا جانتے بوجھتے اللہ کے کسی سچے پیغمبر کو جھٹلا دینا۔

چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت ٦٢ میں کسی بھی شخص کے لیے نبوت کو جانتے بوجھتے نہ ماننے کی کوئی اجازت نہیں ہے، بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نجات کے لیے کسی پیغمبر کا پیرو کار کہلانا ہی کافی نہیں، اس کے ساتھ اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

اس آیت کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس میں اللہ نے یہ بتایا ہے کہ کسی نہ کسی پیغمبر کو مان لو، خواہ باقی پیغمبروں کی جان بوجھ کر تکذیب کر دو یا ان سے بے اعتنائی برت لو اور ان کی دعوت قبول نہ کرو، تمھاری بخشش ،بہرحال ہو جائے گی۔

اسی طرح سورہ آل عمران کی درج ذیل آیت سے بھی یہ مراد نہیں کہ اہل کتاب صرف توحید میں مسلمانوں سے اشتراک کر لیں تو وہ کافی ہو گا، بلکہ اس آیت میں تو اس مشترک بنیاد کی طرف دعوت دی گئی ہے جس پر اگر وہ کھڑے ہو جاتے ہیں تو اب آگے ان سے نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی جاسکتی ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ یٰۤاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْۤا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ.

(٣:٦٤)

''کہہ دو اے اہل کتاب ،اس چیز کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیںاور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے۔ اگر وہ اس چیز سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔''

مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''...توحید کے متعلق قرآن مجید کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان یکساں مشترک و مسلم ہے۔قرآن نے اسی مشترک کلمہ کو بنیاد قرار دے کر ان سے بحث کا آغاز کیا ہے کہ جب توحید ہمارے اور تمھارے درمیان ایک مشترک حقیقت ہے تو موازنہ کرو کہ اس قدر مشترک کے معیار پر قرآن اور اسلام پورے اترتے ہیں یا یہودیت اور نصرانیت؟

بحث کا یہ طریقہ قرآن کے اس قرار دادہ طریقہ کے بالکل مطابق ہے جس کی اس نے آیت اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ.(اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ سے دعوت دو)میں تلقین فرمائی ہے۔'' (تدبر قرآن٢/١١٢)

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author