قرآن میں ہر ہر چیز کا بیان ہونا

سوال:

کیا قرآن میں حکم اور تفصیل دونوں پائے جاتے ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تو قرآن کو ایک ایسی کتاب ہونا چاہیے ، جس میں ہر ہر چیز کا بیان موجود ہو؟


جواب:

آپ کے سوال سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے قرآن کریم کی اپنی ایک بات سے اخذ کیا گیا ہے ۔ قرآن کا وہ فرمان اس طرح ہے :

’’یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات پہلے محکم کی گئیں پھر خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی۔‘‘ ، ( ہود11: 1)

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کوجب نازل کیا ہے تو اس میں ایک خاص ترتیب ملحوظ رکھی ہے ۔ وہ یہ کہ بات آسانی سے سمجھانے اور واضح کرنے کے لیے پہلے اصولی پیغام مختصر مگر جامع اندازمیں اتارا گیا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اس پیغام کی تفصیل کی گئی جس میں اس کے دلائل اور شرح وضاحت وغیرہ شامل ہے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم بچوں کو ا سکول میں تعلیم دیتے وقت ہر علم کی تفصیل سے آغا ز نہیں کرتے بلکہ ابتدائی تصورات کو اجمال کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ تفصیلات تک لے جاتے ہیں ۔ بڑ ے لوگ بھی کسی علم کو اسی اصول پر سیکھتے ہیں ۔ اسی کی رعایت اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ۔
آپ کی یہ بات کہ کہ قرآن میں ہر چیز کابیان ہو یہ بھی ایک قرآنی بیان سے ماخوذ ہے ۔ یعنی قرآن مجید نے اپنے متعلق یہ بات کئی مقامات (مثلاً یوسف12: 111 ، نحل16: 89) پر کہی ہے کہ اس میں ہر چیز کی تفصیل یا بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات کے تمام علوم کے بارے میں قرآن میں ساری تفصیلات موجود ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس بات کو قرآن کریم نے موضوع بنایا ہے یعنی ایمانیات ، اس کی تمام ترتفصیلات اس میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان و عقائد میں قرآن دین کی بنیادی ہی نہیں آخری کتاب بھی ہے ۔ جو اس نے اس ضمن میں بیان کر دیا وہی حرف آخر ہے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author