قرآن و حدیث کا باہمی تعلق

سوال:

آپ لوگوں کا کہنا ہے کہ احادیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا چاہیے نہ کہ قرآن کو احادیث کی روشنی میں۔ لیکن قرآن میں تو بہت سے معاملات کافی اختصار کے ساتھ بیان ہوئے ہیں جنہیں حدیث کے سہارے کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا ، تو پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ قرآن کو احادیث کے بغیر سمجھا جا سکتا ہے؟


جواب:

ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ حدیث کوقرآن کی روشنی میں سمجھاجائے۔ اس پر آپ کایہ اعتراض درست نہیں کہ نماز و زکوٰۃ وغیرہ جیسے احکام کا قرآن کریم میں صرف ذکر ہے اور ان کی تفصیل حدیث میں ملتی ہے ۔ ہم اس معاملے کو جس طرح سمجھتے ہیں اس کے مطابق ان احکام کا ماخذ نہ قرآن ہے اور نہ حدیث ، بلکہ ان کا اصل ماخذ سنت ہے ۔ یہ سنت قرآن ہی کی طرح ہم تک اجماع اور تواتر کے ساتھ منتقل ہوئی ہے اور اس سے ملنے والے احکام اسی طرح یقینی ہیں جس طرح قرآن کریم سے ملنے والے احکام۔


جہاں تک حدیث کا سوال ہے تو یہ سمجھ لیجیے کہ حدیث کی تدوین کاباقاعدہ عمل تیسری صدی میں شروع ہوا۔ حدیث کی پہلی کتاب موطا امام مالک 160 ہجری میں تصنیف ہوئی۔امام بخاری کا انتقال 256 ہجری میں ہوا اورصحیح بخاری اس سے کچھ عرصے پہلے ہی مکمل ہوئی تھی۔امام مسلم کا انتقال 261 ہجری میں ہوا اس طرح صحیح مسلم کی تصنیف کازمانہ بھی تیسری صدی کی نصف اول کا ہوا۔


ایک طرف احادیث کی تدوین کا یہ زمانہ پیش نظر رکھیے اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ نماز، روزہ اوران جیسے دیگر احکام پر مسلمانوں نے دوسری یاتیسری صدی میں عمل کرناشروع نہیں کیا تھا۔ان احکام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے پوری امت عمل کر رہی تھی اور اس کے لیے امت نے حدیثوں کے پھیلنے اور ان کی کتابوں کی تدوین کا انتظار نہیں کیا تھا۔ اس وضاحت سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ عبادات اور دین کے دیگرعملی معاملات کا انحصاردوسری صدی میں عام ہونے والی حدیثوں پرنہیں ، بلکہ ان احکام پرہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بطوردین امت میں جاری کیا اوراس کے بعدہرزمانے کے لوگ لاکھوں اور کروڑ وں کی تعداد میں ان پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہی کو ہم سنت سے تعبیرکرتے ہیں

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author