قرآن اور نماز کے اوقات

سوال:

کیا یہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں تو ایک بات بیان کریں، مگر احادیث، روایات اور تواتر سے دوسری بات، مثلاً قرآن میں تو دو نمازوں کے فرض کابیان ہو (سورئہ بنی اسر ائیل میں صبح ، دلوک شمس اور تہجدکا بیان ہے اور ساتھ یہ بتایا ہے کہ تہجد نفل ہے، یعنی دونمازوں کا حکم ہے۔اسی طرح سورہئ ہود میں طرفی النہار اور سورئہ طٰہٰ میں اناے لیل کا ذکر ہے)، مگر حضور نے پانچ نمازیں رائج کیں۔


جواب:

اس سوال میں غلطی یہ ہے کہ اس میں صرف قرآن کو دین کا ماخذ قرار دے کر نماز کے اوقات اور اس کی تعداد کو قرآن سے متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ استاد محترم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک نماز سرتاسر سنت سے ماخوذ ہے اور قرآن میں اس کا ذکر بطور یاددہانی ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں نماز کے طریقے اور اوقات کے بارے میں وضو کی طرح کا کوئی جامع بیان موجود نہیں ہے ۔وضو کی مثال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نماز کی تیاری کے طریقے میں تو تصریح کی ضرورت تھی، لیکن نماز کا طریقہ اور اوقات اس طرح واضح تھے کہ قرآن مجید میں اس کی تصریح کی ضر ورت پیش نہیں آئی۔

باقی رہا دلوک شمس تو اس کا اطلاق ظہر، عصر اور مغرب ،تینوں اوقات کے لیے ممکن ہے۔مولانا اصلاحی رحمہ اللہ نے 'دلوک' کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

'''دُلُوْك' کے معنی زوال کے ہیں۔ سورج کے زوال کے تین درجے ہیں۔ ایک وہ جب وہ سمت راس سے ڈھلتا ہے، دوسرا جب وہ مر أی العین سے نیچے کی طرف جھکتا ہے، تیسرا جب وہ افق سے غائب ہوتا ہے۔ یہ تینوں اوقات ظہر، عصر اور مغرب کی نمازوں کے ہیں۔''(تدبر قرآن ٤/٥٢٩-٥٣٠)

'دلوك' کے بعد 'غسق' کا لفظ آیا ہے۔ 'غسق' کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا اصلاحی مرحوم نے لکھا ہے:

'''غَسَقُ اللَّيْلِ' اول شب کی تاریکی جب کہ وہ گاڑھی ہوجائے۔ یہ نماز عشا کا وقت ہے۔''(تدبر قرآن ٤/٥٣٠)

اس کے بعد اس آیت میں 'قُرْاٰنَ الْفَجْرِ' کے الفاظ آئے ہیں۔ اصلاحی رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے: اس سے نماز فجر میں قرآن کی تلاوت مراد ہے۔

مولانا اصلاحی رحمہ اللہ کی تصریحات سے واضح ہے کہ یہ نمازپڑھنے کا حکم ضرور ہے، لیکن اس میں اوقات کا ذکر تعین کے لیے نہیں ہے ،بلکہ نمازوں کے اوقات کے صبح و شام کے اوقات میں پھیلے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان الفاظ سے نہ نمازوں کی تعداد معین ہو سکتی ہے اور نہ اوقات ہی معین صورت میں سامنے آتے ہیں۔ البتہ جو نماز سنت سے معلوم ومعروف ہے، اس کے حوالے سے ان الفاظ کو دیکھیں تو یہ اس کا ایک اجمالی بیان ضرور ہیں۔

یہی معاملہ سورہء ہود(١١:١١٤) کے 'طَرَفَیِ النَّهارِ' اور سورہ طٰہٰ (٢٠:١٣٠) کے 'اٰنَآء الَّيْلِ'کے الفاظ کا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author