قرآن سے متعہ کا ثبوت

سوال:

پانچویں پارے کے شروع میں متعہ کا ذکر موجود ہے۔ کیا اس آیت میں متعہ کی اجازت دی گئی ہے یا عربی میں نکاح ہی کو متعہ کہتے ہیں؟


جواب:

نکاح اور متعہ میں فرق ہے۔ نکاح میں مرد و عورت زندگی بھر کے لیے ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں، جبکہ متعہ میں وہ کم یا زیادہ بہرحال، ایک متعین مدت تک کے لیے یہ تعلق قائم کرتے ہیں۔ عربوں کے ہاں متعہ رائج تھا، لیکن اسلام نے اسے حرام قرار دے دیاہے۔

قرآن مجید کی جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا ہے ، وہ درج ذیل ہے:

وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ.(النساء 24)

''اور ان (محرمات) کے ماسوا عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں، اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے ان کے طالب بنو، اُن کو قید نکاح میں لے کر، نہ کہ بدکاری (مادہ منویہ بہانے) کے طور پر، پس ان میں سے جن سے تم نے تمتع کیا ہو تو ان کو ان کے مہر دو، فریضہ کی حیثیت سے۔ مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہوتو اس پر کوئی گناہ نہیں۔''

یہی وہ آیت ہے جس کے خط کشیدہ الفاظ سے متعہ کو ثابت کیا جاتا ہے، لیکن ان سے متعہ کو ثابت کرنا بالکل غلط ہے، کیونکہ یہ آیت جس سیاق و سباق میں آ رہی ہے، اس میں پہلے اُن خواتین کا ذکر ہے جو نکاح کے لیے حرام ہیں، پھر فرمایا کہ ان کے ماسوا نکاح کے لیے حلال ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم ان سے وقتی بدکاری (مادہ منویہ بہانے) کے طور پر تعلق قائم نہ کرو، بلکہ باقاعدہ نکاح کر کے عورت کو اپنی حمایت و حفاظت میں لو اور انھیں ان کے مہر دو، چنانچہ اِن حلال عورتوں میں سے جن سے تم باقاعدہ نکاح کر کے زن و شو کا تعلق تو قائم کر چکے ہو، لیکن تم نے ابھی ان کے مہر نہیں دیے، اُنھیں اُن کے مہر دو، پھر مہر کی اس ادائیگی کے بعد اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے اس میں کوئی کمی بیشی کر لیں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

اس آیت میں ' اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ 'کے وہ الفاظ موجود ہیں، جن کا مطلب ہی یہ ہے کہ ''تم ا ن کے طالب بنو مال (مہر) کے ذریعے سے، ان سے نکاح کرکے انھیںاپنی حمایت و حفاظت میں لیتے ہوئے، نہ کہ وقتی بدکاری (مادہ منویہ بہانے) کے طور پر تعلق قائم کرتے ہوئے''۔ چنانچہ یہ آیت دراصل متعہ، جو کہ وقتی نکاح ہوتا ہے اور جس میں اصلاً مادہ منویہ بہانے کے سوا نہ اولاد اور نہ عورت کی مستقل حفاظت و حمایت، اس طرح کا کوئی مقصد پیش نظر نہیں ہوتا، اُس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر رہی ہے۔ لہٰذا اس کو متعہ کے حق میں کسی طرح بھی پیش ہی نہیں کیا جا سکتا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author