قرآنی آیات کے ذریعے بیماریوں

سوال:

میں آٹھ سال کمر کی شدید تکلیف میں مبتلا رہا۔ اس سلسلے میں میں ایک بابا جی کے پاس گیا، انہوں نے مجھے قرآنی آیات پر مشتمل کچھ تعویذ دیے۔ کم و بیش دو ہفتوں میں میں کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ اب میں باقاعدہ ان کے پاس مختلف امراض کے سلسلے میں جاتا ہوں۔ دوسرے لوگ بھی اس کے مفید علاج سے مطمئن ہیں۔ وہ بابا جی کچھ آیات تلاوت کر کے دم کرتے ہیں اور تعویذ بھی دیتے ہیں جو کہ پانی میں ڈال کر کھائے جاتے ہیں۔ وہ بابا جی ایک تعویذ کے تقریباً ٥٠٠ روپے لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم میں خیرات میں دیتا ہوں۔ وہ اکثرا یسی بیماریوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو کہ جادو اور تعویذ کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ لوگوں کا علاج کرنے کا انہیں خدا کی طرف سے مخصوص طریقہ سکھایا گیا ہے اور ان کے ہاتھ میں خدا نے شفا رکھی ہے۔ اس سلسلے میں میں آپ سے چند سوالات کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

١۔ کیا کسی ایسے طبیب کے پاس اپنا مرض لے کر جانا چاہیے جو کہ قرآنی آیات کے ذریعے علاج کرتا ہو؟کیا اسے اس بات کی اجازت ہے۔؟

٢۔ کیا قرآنی آیات میں کوئی خاص ربط ہے جس کے ذریعے بیماریوں کا علاج کیا جا سکے؟ کیا اسم اعظم اور ناد علی میں کوئی خاص طاقت پوشیدہ ہے۔؟

٣۔ کیا ایسے حضرات دنیا میں موجود ہیں جو کہ خدا کی طرف سے اتنا بلند مرتبہ رکھتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں میں شفا پائی جائے؟

٤۔ سلسلہ کیا ہوتا ہےـ؟ کچھ لوگ اپنے مخصوص پیر منتخب کر لیتے ہیں، کیا یہ اسلامی نظام ہے؟ ٥۔ کیا کوئی صوفی وفات کے بعد خواب میں آ کر انسان کی تربیت کر سکتے ہیں؟ کیا مردہ صوفیا کی ارواح انسانوں پر اثر انداز ہوتی ہیں؟


جواب:

سوالات کے جواب بالترتیب حاضر ہے۔

کیا قرآنی آیات کی بنیاد پر علاج کرنے والے کے پاس جانا درست ہے؟

اگرچہ قرآنی آیات سے علاج کی کوئی بنیاد قرآن وسنت میں نہیں ہے اور اس کی بنیاد سراسر انسانوں کے اندازوں اور بعض لوگوں کے دعوے کے مطابق تجربے پر ہے۔ اس لیے اسے جائز اور ناجائز قرار دینے کا مسئلہ دو بنیادوں پر قائم ہے۔ ایک یہ کہ قرآن وسنت میں کوئی چیز موجود ہو جس کی بنیاد پر اسے ناجائز کہا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس طریق کار میں کوئی ایسی چیز ہو جو اسلام کے اصولی یا عملی پہلوؤں کے خلاف ہو۔ قرآنی عملیات کو جادو قرار دے کر خلاف اسلام قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ البتہ ان کے ساتھـ جو رسوم و آداب وابستہ کر دیے جاتے ہیں وہ محل نظر ہیں۔ اسی طرح قرآنی آیات کا یہ استعمال خود قرآن کے مقصد نزول سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا یہ پہلو بھی اسے پسندیدہ نہیں رہنے دیتا۔ پھر یہ کہ اللہ تعالی نے اس دنیا کو تدبیر اور دعا کے اصول پر استوار کیا ہے اس طرح کے عمل اس کے بھی خلاف ہیں۔

کیا قرآنی آیات، اسم اعظم اور ناد علی میں کوئی خصوصی طاقت ہے؟

اصل میں یہ تینوں دعوے انسانی ہیں اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے اس کی بنیاد قرآن مجید اور حدیث میں نہیں ہے۔ اس طرح کی چیزیں پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی کیونکہ ان کے نتائج نکلنے کی شرح اتنی نہیں ہے کہ اسے طب یا انجینئرنگ کی طرح کا ایک باقاعدہ فن قرار دیا جا سکے۔

کیا ان بزرگوں کی دعا اللہ زیادہ توجہ سے سنتا ہے؟

اللہ تعالی سب کی سنتے ہیں۔ نیک آدمی خدا کے پسندیدہ ہیں۔ اس سے توقع پیدا ہوتی ہے کہ ان کی دعائیں بھی اللہ قبول کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے لیکن اللہ تعالی کی طرف سے یہ کوئی وعدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے دعا قبول کرنے کے اصول ہیں وہ ان اصولوں کے مطابق ہونے والی دعا قبول کرتے ہیں۔ کوئی دعا ایسی نہیں ہے جو ان کی درگاہ میں نہیں پہنچتی۔

سلسلہ ہائے تصوف کیا ہیں۔ شیخ کی کیا حیثیت ہے۔ کیا شیخ موت کے بعد بھی خواب میں رہنمائی کرتے ہیں۔ کیا روحیں اثر انداز ہوتی ہیں؟

تصوف ایک علم ہے جس میں ایک حصہ ان کے نظام فکر کا ہے اور دوسرا حصہ ان کے نظام تربیت کا ہے۔ پہلا حصہ سب سلاسل میں مشترک ہے اگر کچھـ فرق ہے تو وہ بہت معمولی ہے اور بالعموم طرز بیان کا ہے۔ دوسرا حصہ عملی ہے اور اس میں وظائف، چلوں اور ریاضت کے طریقوں کا فرق ہے۔

اصولا تو شیخ کی وہی حیثیت ہے جو کسی بھی فن میں استاد کی ہوتی ہے۔ لیکن تصوف میں شیخ کو کم وبیش وہی مقام دیا گیا ہے جو قرآن مجید میں حضور کو امتیوں میں دیا گیا ہے۔ یہ بات محل نظر ہے اور کسی بھی غیر نبی کا اپنی حدود سے تجاوز ہے

مرنے کے بعد کسی روح کے لیے اس دنیا سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author