قیامت کا مفہوم

سوال:

کیا قیامت کا مطلب دنیا اور کائنات کا خاتمہ ہے یا اس سے مراد وہ وقت اور زمانہ ہے، جب اللہ تعالیٰ کا نظام، یعنی دین نافذ ہو جائے گا؟ اس سلسلے میں قرآن مجید سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟


جواب:

قرآن مجید کے مطابق قیامت کا واضح طور پر صرف اور صرف یہی مطلب ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والے ہر آدمی کو مرنا ہے، پھر ایک دن یہ زمین شدید زلزلوں کی وجہ سے بالکل ہموار ہو جائے گی اور انسانوں کی یہ دنیا ختم ہو جائے گی، یہ کائنات بھی توڑ پھوڑ دی جائے گی۔ پھر نئی دنیا وجود میں آئے گی، لوگ مر کر ہڈیاں ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے اور میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے اکٹھے کیے جائیں گے، سب لوگوں کا حساب کتاب ہو گا اور پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت یا دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ سب کچھ قرآن کی صریح آیات سے ثابت ہے۔ ذیل میں ان درج بالا باتوں میں سے ہر ایک سے متعلق آیات پیش کی جاتی ہیں۔

دنیا میں پیدا ہونے والے ہر آدمی کو مرنا ہے:

کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ.(آل عمران٣:١٨٥)

''ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔''

پھر ایک دن یہ زمین شدید زلزلوں کی وجہ سے بالکل ہموار ہو جائے گی اور انسانوں کی یہ دنیا ختم ہو جائے گی:

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا.(الزلزال٩٩:١-٢)

''جب زمین پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی اور وہ اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی۔''

وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ، وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْ.(الانشقاق٨٤:٣-٤)

''اورجب زمین تان دی جائے گی اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر ڈال کر فارغ ہو جائے گی۔''

کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ.(الرحمن٥٥:٢٦)

''اس زمین پر جو کچھ ہے، وہ سب فانی ہے۔''

یہ کائنات بھی توڑ پھوڑ دی جائے گی:

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ، وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ.( الانفطار٨٢:١-٢)

''جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے بکھر جائیں گے۔''

پھر نئی دنیا وجود میں آئے گی:

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ.(ابراهيم١٤: ٤٨)

''جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان دوسرے آسمان سے۔''

لوگ مر کر ہڈیاں ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے اور میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے اکٹھے کیے جائیں گے:

يَقُوْلُوْنَ ءَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ، ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً، قَالُوْا تِلْكَ اِذًا کَرَّةٌ خَاسِرَةٌ، فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ، فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ.(النّٰزعٰت٧٩: ١٠- ١٤)

''پوچھتے ہیں: کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے، کیا جبکہ ہم کھنکھناتی ہڈیاں ہو چکیں گے، کہتے ہیں: یہ لوٹایا جانا تو بڑے ہی خسارے کا ہو گا۔ وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہو گی کہ دفعۃً وہ سب میدان میں آ موجود ہوں گے۔''

سب لوگوں کا حساب کتاب ہو گا:

هَذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ (المرسلٰت)

''یہ ہے فیصلے کا دن، ہم نے جمع کر لیا ہے تم کو بھی اور اگلوں کو بھی۔''

پھر وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت یا دوزخ میں داخل ہو جائیں گے:

وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْهِ فَرِيْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَريْقٌ فِی السَّعِيْرِ. (الشوریٰ٤٢:٧)

''اور اس دن سے ڈراؤ، جو سب کو اکٹھا کرنے کا دن ہو گا، جس کے آنے میں کسی شک کی گنجایش نہیں ہے،( اس دن) ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا اور ایک گروہ دوزخ میں۔''

بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَيِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِه خَطِيْۤئَته، ، فَاُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ.(البقره٢:٨١)

'' البتہ، جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔''

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ، هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ.(البقره٢:٨٢)

''اور جو ایمان لائے اور انھوں نے بھلے کام کیے تو وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔''

یہ آیات اپنے مفہوم کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں، اس طرح کی اور بے شمار آیات قرآن میں موجود ہیں، ان کو کسی ایسے مجازی مفہوم میں لینا ممکن ہی نہیں، جس سے اس کائنات میں کوئی توڑ پھوڑ واقع نہ ہو، لوگ مر کر دوبارہ زندہ نہ ہوں، ان کے اعمال کا حساب کتاب نہ ہو اور وہ اپنے اچھے اعمال کے بدلے میں جنت نہ پائیں اور برے اعمال کے بدلے میں دوزخ کی سزا سے ہم کنار نہ ہوں۔ جن لوگوں نے انھیں مجازی مفہوم میں لینے کی کوشش کی ہے، انھوں نے علم کی دنیا میں اپنی جہالت کا پورا ثبوت دے دیا ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author