قيامت كا وقوع

سوال:

بعض علما کا یہ خیال ہے کہ مرنے کے فوراً بعد ہر انسان کے اعمال کا حساب کتاب ہو جاتا ہے اور وہ جنت یا دوزخ جس کا بھی مستحق ہو، اس میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ قیامت ہے جو انسان پر آنی ہے۔ اس فوراً حساب کتاب کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ''سریع الحساب'' ہے، لہٰذاوہ قیامت کے حساب کتاب میں دیر نہیں کرتا۔ لیکن علما ہی کے ایک دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ حساب کتاب قیامت ہی کے دن ہو گا، وہاں از اول تا آخر تمام انبیا کو اور ان کی امتوں کو اکٹھا کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور پھر اس کے بعد لوگ اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق جنت یا دوزخ میں جائیں گے۔

آپ یہ بتائیے کہ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں ان دونوں میں سے کون سی راے صحیح ہے ؟


جواب:

پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ 'سَرِیْعُ الْحِسَابِ' کا مفہوم اگر ہم اپنے معیارات اور اپنے ذہنی پیمانوں سے طے کریں گے تو یہ صحیح نہیں ہو گا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّهُمْ يَرَوْنَه، بَعِيْدًا، وَّ نَرٰهُ قَرِيْبًا، يَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآءُ کَالْمُهْلِ وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِهْنِ. المعارج ٧٠: ٦-٩)

''وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں، جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو جائے گا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند۔''

آج سے تقریباً سوا چودہ سو سال پہلے مشرکین مکہ نے قیامت کے بارے میں جب یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ تو بہت دور ہے تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تم اسے بہت دور سمجھ رہے ہو اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔

آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود، وہ قیامت ابھی تک نہیں آئی، جس میں آسمان تیل کی تلچھٹ کی مانند اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہو جائیں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نزول قرآن کے زمانے ہی میں اس کو قریب دیکھ رہا تھا۔ کیا قیامت کے قریب ہونے کے بارے میں خدا کی بات غلط ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ خدا ہی کی بات صحیح ہے۔ البتہ اِس وقت ہمارا فہم اس کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہے۔

دنیا میں ایک لمبی زندگی گزارنے کے بعد جب لوگ قیامت کے دن اٹھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے تو وہ کہیں گے کہ'یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ'(ایک دن یا اس کا کچھ حصہ)، ظاہر ہے کہ جس دن انسان کو اپنی ساٹھ ستر سالہ زندگی ایک دن یا اس کا کچھ حصہ محسوس ہو گی تو امید ہے کہ اس دن اسے یہ بھی محسوس ہو جائے گا کہ قیامت بہت ہی قریب تھی اور یہ بہت جلد آ گئی ہے۔

چنانچہ ہمیں خدا کی بات کو اپنے معیارات اور اپنے پیمانوں کے مطابق نہیں لینا چاہیے۔

اعمال انسانی کے حساب کتاب کے بارے میں جو دو مختلف نقطہ ہاے نظر آپ نے پیش کیے ہیں، ان میں سے دوسرا نقطہ نظر ہی صحیح ہے۔ آیات قرآن اسی کی تصدیق کرتی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ، فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ، وَاِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ، وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ، وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ، لِاَیِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ، لِيَوْمِ الْفَصْلِ.(المرسلٰت٧٧:٧-١٣)

''بے شک جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے، وہ شدنی ہے۔ پس جبکہ ستارے بے نشان کر دیے جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گااور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا، کس دن کے لیے وہ ٹالے گئے ہیں، فیصلے کے دن کے لیے۔''

ان آیات کا صاف مطلب یہ ہے کہ قیامت اس وقت آنی ہے جب ستاروں نے اپنی روشنی کھو دینی ہے، آسمان نے پھٹ جانا ہے، پہاڑوں نے ریزہ ریزہ ہونا ہے، جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تب خدا کے سامنے رسولوں کے حاضر ہونے کا وقت آ جائے گا ، ان کی یہ حاضری، فیصلے کے اس خاص دن ہی کے لیے مؤخر کی گئی ہے:

قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَیَّ، اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ، قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْه، خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَه، مِنْ طِيْنٍ، قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰی يَوْمِ الدِّيْنِ قَالَ رَبِّ فَانْظِرْنِیْۤ اِلٰی يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ قَالَ فَاِنََّ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ، اِلٰی يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ.(ص٣٨: ٧٥-٨١)

''اے ابلیس، تجھے اس (وجود) کوسجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے؟ یہ تو نے تکبر کیا ہے یا تو کوئی برتر ہستی ہے، اس نے کہا: میں اس سے برتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا، حکم ہوا تو یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو راندہ درگاہ ہوا اور تجھ پر میری لعنت ہے، جزا کے دن تک، اس نے کہا: اے میرے رب، مجھے مہلت دے، اس دن تک کے لیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ ارشاد ہوا: تجھ کو مہلت دی گئی، وقت معین تک کے لیے۔''

ان آیات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے اٹھائے جانے کا ایک خاص دن ہے ۔ چنانچہ شیطان نے اسی خاص دن تک کے لیے خدا سے مہلت مانگی تھی۔

ارشاد باری ہے:

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِه وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُه، يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌ بِيَمِيْنِه سُبْحٰنه، وَتَعٰلٰی عَمَّا يُشْرِکُوْنَ.وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ، ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰی فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ. وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْکِتٰبُ وَجِایْۤءَ بِالنَّبِيينَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِیَ بَيْْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ. وَوُفِّيَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ. وَسِيْقَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْۤا اِلَی جَهَنَّمَ زُمَرًا... وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَی الْجَنَّةِ زُمَرًا.(الزمر٣٩:٦٧-٧٣)

''اور لوگوں نے خدا کی صحیح قدر نہیں جانی، قیامت کے دن زمین ساری کی ساری اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان کی بساط بھی اس کے ہاتھ میں لپٹی ہوئی ہو گی۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک بناتے ہیں اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے، مگر جن کو اللہ چاہے، پھر دوبارہ اس میں پھونکا جائے گا تو دفعۃً وہ کھڑے ہو کر تاکنے لگیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور رجسٹر رکھا جائے گا اور انبیا اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور ہر جان کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہو گا، وہ گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانک کر لے جائے جائیں گے ... اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔''

یہ آیات بھی بہت صراحت کے ساتھ بتا رہی ہیں کہ لوگوں کے اعمال کا حساب کتاب ان کے مرنے کے ساتھ ہی نہیں ہو جائے گا، بلکہ اس سے پہلے کئی واقعات ہوں گے۔ صور میں دو دفعہ پھونکا جائے گا، سب لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، خدا زمین کو اپنی مٹھی میں پکڑ لے گا، آسمان کی بساط کو اپنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اپنی بزرگی بیان کرے گا۔ پھر خدا ہی جانتا ہے کہ کتنے مراحل اور گزریں گے اور پھر زمین خدا کے نور سے چمک اٹھے گی۔ تب رجسٹر رکھا جائے گا، انبیا اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پھر اس کے بعد گناہ گار جہنم کی طرف اور نیکوکار جنت کی طرف لے جائے جائیں گے:

اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ. لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَکْتُ کَلَّا، اِنَّهَا کَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا، وَمِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ. فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَّلَا يَتَسَآءَ لُوْنَ. فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُه، فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُه، فَاُولٰۤئِكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ.(المؤمنون٢٣: ٩٩-١٠٣)

''جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہو گی تو وہ کہے گا: اے میرے رب، مجھے پھر واپس بھیج کہ جو کچھ میں دنیا میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں کچھ نیکی کما لوں، ہرگز نہیں یہ محض ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور اب ان سب مرنے والوں کے آگے اس دن تک کے لیے ایک پردہ ہو گا، جس دن یہ اٹھائے جائیں گے۔ چنانچہ جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن آپس کا نسب کام نہ آئے گا اور نہ وہ ایک دوسرے سے مدد کے طالب ہوں گے۔ پس جن کے پلے بھاری ہوں گے، وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے اور جن کے پلے ہلکے ہوں گے تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔''

ان آیات میں بہت صراحت سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ موت کے بعد قیامت کا دن آنے تک لوگ برزخ میں رہیں گے، پھر صور پھونکا جائے گا، پھر اعمال کا وزن ہو گا اور اس کے بعد لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق جنت یا جہنم میں جائیں گے۔

اس مضمون کی بے شمار آیات قرآن میں موجود ہیں، جن کی کوئی اور توجیہ نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ان کے خلاف ہر تصور باطل ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author