رحمۃ للعالمین

سوال:

یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمين ہیں۔ آپ کی رحمت ہر شخص کے لیے ہے، خواہ وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ ہم عیسائی، یہودی، ہندو ہر قوم کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ ہمارے لیے ان کے پیروکار کی حیثیت سے دوسری اقوام کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا موزوں ہے۔


جواب:

آپ نے رحمة للعالمينکا مطلب یہ طے کر رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے تمام انسانوں کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ آپ ایک بابرکت ہستی ہیں اور آپ کی برکت کا فیض ہر شخص کے لیے جاری ہے۔ یہ بات اپنی اس سادہ صورت میں ٹھیک ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس فیض اور برکت سے کیا مراد ہے؟ 'وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ' (اور ہم نے تم کو بس اہلِ عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے) کا جملہ قرآن مجید کی سورۂ انبیاء (21: 107) میں آیا ہے۔ اس جملے کا محل واضح کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

''یعنی اسی انذاروبشارت کے لیے ہم نے تمھیں لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے کہ ان کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ تمھارے اوپر ذمہ داری صرف بلاغ اور منادی کی ہے، تم یہ فرض ادا کردو۔ اگر مغرور و سرکش لوگ تمھارے انذار کا مذاق اڑاتے اور اس وقتِ موعود کے دکھا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ مجھے خدا نے رحمت بنا کر بھیجا ہے، عذاب بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ عذاب کب آئے گا۔ اس کے وقت کا علم صرف میرے رب ہی کو ہے۔'' (تدبرقرآن 5/199)

غرض یہ کہ آپ کے رحمت ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ کے پاس خدا کی ہدایت موجود ہے اور جو خدا کی رحمت پانا چاہتا ہے ،وہ اس ہدایت کو قبول کرکے خدا کی رحمت کا مستحق بن جائے۔ آپ کے پیرو کار کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آپ کی ذات سے جاری ہونے والے اس چشمہ صافی سے لوگوںـ کو روشناس کریں اور لوگوں تک خدا کا دین پہنچانے میں وہی محبت، شفقت اور گداز اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں بہت نمایاں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author