رفع عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت

سوال:

عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی ہے یا وہ زندہ اٹھا لیے گئے ہیں؟ اگر وہ اٹھا لیے گئے ہیں تو وہ دو ہزار سال سے بغیر کھائے پیے زندہ کیسے ہیں؟ اور وہ کہاں رہ رہے ہیں؟


جواب:

عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دی گئی تھی اور وفات کے بعد آپ کے جسم کو بھی اٹھا لیا گیا تھا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر درج ذیل آیت میں موجود ہے۔ارشاد باری ہے:

اِذْ قَالَ الله يٰعِيْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ. (آل عمران3: 55)

جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔

اس آیت سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو ہرگز قتل نہیں کر سکے تھے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، البتہ اللہ نے انھیں وفات دی تھی اور پھر ان (کے بے جان جسم) کو یہود کے ہاتھوں مثلہ ہونے سے بچانے کے لیے، اپنے پاس اٹھا لیا تھا۔ چنانچہ صحیح بات یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔


یہ سوالات بے کار ہیں کہ ''اگر وہ اٹھا لیے گئے ہیں تو دو ہزار سال سے وہ بغیر کھائے پیے زندہ کیسے ہیں؟ اور وہ کہاں رہ رہے ہیں؟''


کیونکہ اگر خدا نے انھیں زندہ اٹھایا ہے تو وہ اپنے پاس جہاں چاہے گا، انھیں جگہ دے دے گا یہ اس کے لیے کیا مشکل ہے اور جو رزق وہ چاہے گا ،انھیں کھانے کے لیے دے دے گا اس میں کون سی بات مستبعد ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author