رہ جانے والی نمازوں کی قضا

سوال:

جو نمازیں رہ گئی ہیں، ان کو ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ اگر فجر کی نماز ادا کرنا بھول گئے ہوں تو جب یاد آجائے ادا کر سکتے ہیں، اسی دن، اگلے دن، اگلے ہفتے یا جب موقع ملے؟


جواب:

غفلت اور کوتاہی کے سبب رہ جانے والی نمازوں کی قضا ہر آدمی اپنی سہولت کے مطابق کر سکتا ہے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ رہ جانے والی نمازوں کا اندازہ لگا کر ہر نماز کے ساتھ قضا نماز بھی پڑھی جائے ، یہاں تک کہ نمازوں کی تعداد پوری ہو جائے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ بعض فقہا کے نزدیک بھول ، نیند ، بے ہوشی یا ہنگامی صورت حال کی وجہ سے رہ جانے والی نماز ہی کی قضا ہوتی ہے۔ جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نمازوں پر صرف توبہ ہی کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں، بعض لوگ رمضان میں جمعۃ الوداع کے دن تمام نمازوں کو بہ یک وقت قضاے عمری کی نیت سے پڑھتے ہیں، یہ تصور خود ساختہ ہے۔ قرآن وسنت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ باقی رہا، کسی غیر ارادی سبب سے نماز چھوٹ جانا تو اس کی قضا یاد آنے پر، موقع ملنے پر، اگلی نماز کے ساتھ، اگلے دن کسی بھی طریقے سے ادا کی جا سکتی ہے۔ فجر کی نماز کا بھی یہی معاملہ ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author