رفع یدین

سوال:

اللہ کے رسول نے فرمایا کہ نماز ٹھیک اسی طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب احادیث سے یہ بات ثابت ہو چکی کہ اللہ کے رسول کی نماز میں رفع یدین بھی شامل تھا تو آپ کیوں یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین کر لو تو بھی ٹھیک ہے اور نہ کرو تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اللہ کے رسول نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی تو پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ بھی پڑھیں تو نماز ہو جائے گی۔


جواب:

اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پوری مسلم امت کو سکھائی۔ نماز محض ایک علمی اور عقلی مقدمہ نہ تھا بلکہ ایک محسوس عمل ہے جو صحابہ کرام کی پوری نسل باقا‏ئدگی سے ادا کرتی تھی۔ ان صحابہ سے یہ نماز ان کے بچوں نے سیکھی ۔ اور اس طرح یہ عمل اگلی نسل تک منتقل ہوا۔ یہ عمل اسی طرح نسل در نسل ہر درجہ میں امت کے اجماع اور تواتر سے آگے آتا رہا۔ اس سے حتمی طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم امت کو جس نماز پر چھوڑ کر گئے رفع یدین اس کا لازمی حصہ نہ تھا۔ یہ بات امت کے تعامل اور عملی تواتر سے معلوم ہو جاتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ اخبار آحاد ایسے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ نے رفع یدین کیا بھی ہے۔ اس سے زیادہ سے زیادہ اس کا جواز ہی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ لازم ہوتا تو امت اجتماعی طور پر نہ اسے ترک کر سکتی تھی نہ اس کا درجہ تبدیل کر سکتی تھی۔

سورہ فاتحہ نماز کا لازمی حصہ ہے۔ اسی طرح قرآن کے کسی دیگر حصہ کی تلاوت بھی۔ مگر جب امام کے پیچھے نماز پڑھی جا رہی ہو تو امام کی قراءت کافی ہوتی ہے۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے باجماعت نماز کا لازمی حصہ بنایا ہوتا تو یہ بات بھی اسی طرح امت کے اجماع و تواتر سے منتقل ہوتی جس طرح دیگر لازمی اجزاء منتقل ہوئے۔ 

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author