رفع یدین

سوال:

نماز میں رفع یدین کے بارے میں آپ کا کیا نقطۂ نظر ہے؟ بعض لوگوں کے نزدیک یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اورقرآنِ مجید میں بھی اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہے، وضاحت فرما دیجیے؟


جواب:

میرے نزدیک صرف وہی چیزیں سنت کی حیثیت رکھتی ہیں جو صحابۂ کرام کے اجماع سے ہم تک منتقل ہوئی ہیں۔ ہم انھی چیزوں پر اصرار کر سکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر لوگوں کو توجہ بھی دلا سکتے ہیں۔ جن امور میں صحابۂ کرام کا اجماع نہیں ہے ،انھیں نہ سنت کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے اور نہ ان پر عمل کے لیے اصرار کیا جا سکتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق رفع یدین بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن پر صحابہ کا اجماع نہیں ہو سکا، اس وجہ سے میں اسے سنت نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد چاہے ساری دنیا متفق ہو کر اسے سنت قرار دینے لگے تو میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author