رفعِ يدين سنت ہے یا نہیں؟

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ رفعِ یدین کو بہت سی احادیث کے باوجود سنت کیوں نہیں مانا جا سکتا؟


جواب:

آپ کا اعتراض یہ ہے کہ حدیثوں میں رفعِ یدین کاذکرہونے کے باوجودہم اسے سنت کیوں نہیں مانتے۔ عرض ہے کہ نمازاوران جیسے دیگر احکام کاماخذحدیث نہیں ، بلکہ سنت ہے ۔یہ سنت ہمیں صحابہ کے اجماع اورعملی تواترسے ملتی ہے ۔اس سنت کے ذریعے سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ نمازکاآغازرفعِ یدین سے ہوتا ہے ۔پھرقیام اورقراءت ہوتی ہے۔ پھر رکوع و سجود ہوتے ہیں ۔ دو رکعتوں کے بعدقعدہ ہوتا ہے اورنمازکا اختتام سلام پرہوتا ہے ۔آپ غورکریں گے تو اندازہ ہو گا کہ سنت کے اس ذریعے سے ملنے والی نماز کاتوآغازہی رفعِ یدین سے ہوتا ہے۔ اس کوثابت کرنے کے لیے کسی حدیث کی ضرورت ہے اورنہ اس میں کسی قسم کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ رکوع سے پہلے اور بعد کے جس رفعِ یدین کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں ، اس کاذکرصرف حدیث میں ملتا ہے ۔یہ بھی اگرنمازکالازمی حصہ ہوتاتوپہلے رفعِ یدین کی طرح ہی بغیرکسی اختلاف کے رائج ہوتا۔ مگراس کارائج نہ ہونا ہی یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ نماز کی کوئی الگ سنت ہے اور نہ اس کا ایک مستقل حصہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا التزام کرنے والے بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے چھوٹ جانے سے سجدۂ سہو لازم نہیں ہوتا۔


رفعِ یدین کی حقیقت تو یہی ہے کہ یہ نماز کا ایک لازمی رکن ہے جونمازکے شروع میں کیا جاتا ہے ۔ تاہم بعض مواقعوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے اور بعد میں بھی رفعِ یدین کیا ہے ۔اسی طرح کبھی سجدے میں جاتے اور اس اٹھتے ہوئے نیز کبھی تیسری رکعت سے اٹھتے ہوئے بھی آپ رفعِ یدین کر لیتے تھے ۔ مگرآپ کے ایسا کرنے سے یہ نماز کا لازمی حصہ نہیں بن گیا۔ البتہ کوئی شخص چاہے تو احادیث کی بنا پر آپ کی پیروی کرتے ہوئے ایسا کرسکتا ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author