رفع یدین

سوال:

رفع یدین کے بارے میں مجھے بتائیے۔ غامدی صاحب کہتے ہیں حضور نے کبھی کیا اور کبھی نہیں کیا۔ لیکن انھوں نے حدیثیں وہ نقل کی ہیں جن میں رفع یدین کرنے کا ذکر ہے وہ روایات نہیں ہیں جن میں کبھی کرنے اور کبھی نہ کرنے کا ذکر ہو۔


جواب:

اصل میں احناف کا نقطہ نظر جس بنا پر قائم ہے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ نمازنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے سامنے اور روزانہ پانچ مرتبہ پڑھی ہے اور جو عمل سب کے سامنے ہوا ہو اس کے بارے میں خبر واحد سے فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ جس طرح پانچ نمازوں کے معاملے میں خبر واحد کی کوئی حیثیت نہیں ہے اسی طرح نماز کے ظاہری اعمال میں بھی اس کی حیثیت نہیں ہے۔ احناف عین صحابہ کے متصل زمانے میں کام کر رہے تھے اور اگر رفع یدین نماز کا معمول بہ حصہ ہوتا تو احناف اتنی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے تھے۔ دل چسپ بات یہ کہ اس زمانے میں احناف سے اس معاملے میں اختلاف کرنے والے بھی عمل متواتر اور جاری نماز کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ اخبار آحاد پیش کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں وہی نتیجہ نکلتا ہے جو آپ نے استاد محترم کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author