رضاعت

سوال:

میں چند سوالات عرض کرنا چاہتی ہوں جو کہ بالترتیب درج ذیل ہیں:

1۔ کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس سے بالغ فرد کو دودھ پلا کر رضاعی رشتہ بنانے کی تائید ہوتی ہو۔

2۔ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ کم از کم پانچ بار اور بعض لوگ کم از کم دس بار پلانے پر رضاعت قائم ہونے کے قائل ہیں۔ ان میں سے زیادہ مؤثر رائے کون سی ہے؟

3۔ کیا ماں بچے کو دو سال سے زیادہ یا کم دودھ پلا سکتی ہے؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

1۔ اگرچہ اس طرح کی روایات موجود ہیں۔ اس کے باوجود فقہا میں اس مسئلے میں اتفاق نہیں ہے کہ بالغ کی رضاعت ہو سکتی ہے۔ کچھ اسے صرف شیر خواری کی عمر تک محدود کرتے ہیں اور کچھ بلوغ میں بھی اس کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک اصل میں رضاعت وہی ہے جو شیر خوار بچے کو پالنے کے لیے دودھ پلا کر کی جاتی ہے۔ جس روایت میں متبنی کو دودھ پلا کر رضاعت کا تعلق قائم کرنے کا معاملہ بیان ہوا ہے اس سے رضاعت کا قانون اخذ کرنا درست نہیں ہے۔

2۔ یہ بحث بھی کچھ روایات ہی سے ماخوذ ہے۔ اصل میں اس کا قضا سے تعلق ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی نے لمبا عرصہ دودھ نہیں پیا تو اس طرح کے معاملات میں کم از کم کتنی بار دودھ پینے پر رضاعت کا اطلاق کیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک رضاعت کا فیصلہ تمام حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر ہو گا محض دودھ پلانے کی باریوں پر اسے منحصر نہیں کیا جا سکتا –‎

3۔ ماں اپنے حالات کے مطابق دو سال سے کم یا زیادہ دودھ پلا سکتی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author