رجم کی سزا

سوال:

غامدی صاحب نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایاکہ اسلام میں زنا کی سزا سو کوڑے ہے، خواہ وہ کنوارا ہو خواہ شادی شدہ۔ اس سے پہلے میرے علم کے مطابق اس طرح کی آرا منکرین حدیث ہی ظاہر کرتے تھے۔ آپ لوگ منکر حدیث نہیں ہیں ، اس لیے کہ آپ احادیث کے حوالے دیتے ہیں۔ احادیث کی کتابوں میں یہ بات بڑی صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہے۔ اگر آپ رجم کے جواز کے قائل نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں یہ سزا دے کر ناانصافی کی تھی ، اس لیے کہ مشرکین عرب میں زانی کے لیے اس سزا کا کوئی رواج نہیں تھا۔

علاوہ ازیں یہ سزا عہد نامہ عتیق میں بھی بیان ہوئی ہے اور یہود کے ہاں اس پر عمل بھی رہا ہے۔ مولانا مودودی ، ابن کثیر اور فقہاے اربعہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہی قرار دیتے ہیں۔


آپ اگر حدیث کی حجیت کے قائل ہیں تو آپ کی راے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر آپ منکر حدیث ہیں تب براہ مہربانی صورت حال واضح کر دیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ میرے لیے ایک حادثہ ہو گا، اس لیے کہ میں اس سے پہلے اس حوالے سے آپ کا دفاع کرتا رہا ہوں؟


جواب:

پہلی بات تو یہ واضح رہے کہ استاد محترم کسی بھی معنی میں منکر حدیث نہیں ہیں۔ جو آدمی سنت کو ایک مستقل ماخذ دین مانتا ہو اسے منکر حدیث قرار دینا اتہام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس آدمی نے ماخذ کی بحث کا آغاز ''دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے'' جیسے شاہ کا ر جملے سے کیا ہو، اسے منکر حدیث قرار دینا ظلم ہی قرار دیا جائے گا، جبکہ اس نے اپنے اس نقطۂ نظر کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہو:

''...یہ صرف اُنھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول وفعل اور تقریروتصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔'' (میزان 13)

جس نے سنت اور قرآن کو قطعیت میں ہم پلہ قرار دیا ہو ، وہ بجا طور پر اس کا مستحق ہے کہ اسے حامی سنت کے لقب سے یاد کیا جائے کجا یہ کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نہ ماننے والا سمجھا جائے۔ سنت کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

''سنت ... کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اِس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ وہ جس طرح کے صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے، یہ اِسی طرح اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے، لہٰذا اِس کے بارے میں اب کسی بحث ونزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔'' (میزان 14)

حدیث کے دائرۂ کار کے بارے میں انھوں نے اپنا نقطۂ نظر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

''...دین میں اِن (احادیث)سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن وسنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم وتبیین اور اِس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔'' (میزان 15)

اس کے بعد حدیث کی حجیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اِس دائرے کے اندر ، البتہ اِس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یافیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔'' (میزان 15)

ان بیانات سے یہ حقیقت مبرہن ہو جاتی ہے کہ استاد محترم کے نزدیک حدیث و سنت دین کے معاملے میں ایک محکم حیثیت رکھتی ہیں ، لہٰذا آپ کی استاد محترم کے بارے میں یہ راے کہ وہ منکر حدیث نہیں ہیں ، بالکل در ست ہے اور اسے تبدیل کرنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اب ہم رجم کے معاملے کو لیتے ہیں۔ استاد محترم رجم کی سزا کے قائل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ اسے سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ کے تحت دی گئی سزا سمجھتے ہیں۔ آیت میں آئے ہوئے لفظ تقتیل کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

''آیت میں اِس سزا کے لیے 'اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا' کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ و رسول سے محاربہ یا فساد فی الارض کے یہ مجرم صرف قتل ہی نہیں ، بلکہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ 'قتل' یہاں 'تقتیل' کی صورت میں آیا ہے۔ عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ بنا میں زیادت نفس فعل میں شدت اور مبالغہ کے لیے ہوئی ہے۔ اِس وجہ سے 'تقتیل' یہاں 'شرتقتیل' کے مفہوم میں ہے۔ چنانچہ حکم کا تقاضا یہ ہو گا کہ اِن مجرموں کو ایسے طریقے سے قتل کیا جائے جو دوسروں کے لیے عبرت انگیز اور سبق آموز ہو۔ رجم، یعنی سنگ ساری بھی، ہمارے نزدیک اِسی کے تحت داخل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اوباشی کے بعض مجرموں کو یہ سزا اِسی آیت کے حکم کی پیروی میں دی ہے۔'' (میزان 612۔613)

گویا ان کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن زانیوں کو رجم کرایا، وہ اصلاً اوباشی کے مجرم تھے۔ غامدی صاحب رجم کی سزا کے قائل ہیں، اس میں وہ امت سے مختلف نہیں ہیں۔ وہ اس سزا کے دینے کے سبب کے طے کرنے میں فقہا سے اختلاف کرتے ہیں۔ فقہا نے جس طرح اخذ واستنباط سے یہ طے کیا ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہے ، استاد محترم نے اسی طرح اخذ واستنباط سے یہ طے کیاہے کہ یہ سزا زنا کے اوباش مجرموں کو دی گئی۔ یہ ایک علمی اختلاف ہے اور اس کا انکار حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author