روشن خیال علماء کی تقليد

سوال:

میں مذہبی علماء کی کچھ تحریریں پڑھ رہا تھا جس میں قرآن، حدیث اور دوسرے مباحث بھی تھے، تا کہ اسلام اور مسلمان کا تصور میری سمجھ میں آئے۔ ان تحریروں میں ایک تحریر جناب غلام احمد پرویز کی لکھی ہوئی ایک تحریر بھی بھی۔ مجھے کہا گیا کہ میں جناب مولانا صاحب کی کسی تحریر پر زیادہ غور نہ کروں کیوں کہ انہیں منکر حدیث قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن مجھے ان کی تحریروں کا مطالعہ کر کے لگا کہ ان کی کئی تحریریں قرآن کی کہی گئی باتوں کی کافی حد تک ترجمانی کرتی ہیں۔ برائے مہربانی یہ بتائیے کہ آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے جبکہ لوگ انہیں منکر حدیث کہتے ہیں اور ان کی تحریریں کافی روشن خیالی پر مبنی ہیں؟


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ غلام احمد پرویز کی کتابوں کے مطالعے سے متعلق ہماری رائے کیا ہے۔ جبکہ لوگ انھیں منکر حدیث کہتے ہیں اور ان کی تحریریں کافی روشن خیالی پر مبنی ہیں۔

پہلی بات تو یہ واضح رہنی چاہیے کہ خدا نے یہ دنیا آزادی عمل وارادہ کے اصول پر استوار کی ہے۔ اس لیے ہر شخص اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے جو نقطہ نظر چاہے اختیار کر سکتا ہے اور جس نقطہ نظر کو چاہے رد کر سکتا ہے۔ ہم صرف اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے مکلف ہیں باقی ہمارے پڑھنے والے آزاد ہیں چاہیں اسے اختیار کریں چاہے نہ کریں۔ اللہ کے ہاں سرخرو ہونے کی صرف ایک شرط ہے کہ آپ نے اس کے منشا کو جاننے کی مخلصانہ کوشش کی یا نہیں کی۔ اگر آپ کے پیش نظر اپنی مرضی کا دین جاننا ہے تو یہ ایک اور موقف ہے اور اگر آپ کو خدا کے دین کو جاننا ہے تو یہ ایک اور موقف ہے۔ میرے خیال میں قرآن مجیدہمیں دوسری جگہ پر کھڑا ہونے کا حکم دیتا ہے یعنی صرف خدا کا دین جانو اور اس کے مطابق زندگی گزارو۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا کا دین کہاں سے ملتا ہے۔ پرویز صاحب کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دین قرآن مجید سے ملتا ہے۔ یہ بات نامکمل ہے۔ دین کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اصل میں کسی شخص کا یہ اعلان تسلیم کر لینا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اسے ماننے والے کے لیے وہ شخص خدا کا دین جاننے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اب وہ شخص جس چیز کو بھی دین کے طور پر پیش کرتا ہے وہ اس ماننے والے کے لیے دین ہے۔ اسے اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ یہ بات وحی ہے یا نہیں۔ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے اور اس میں شک کرنے کی کوئی وجہ ہمارے پاس نہیں ہے بلکہ جس دلیل کی بنا پر قرآن مجید کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت یقینی ہے اسی دلیل کی بنا پر کچھ دینی اعمال کی نسبت بھی حضور سے قطعی ہے۔ لہذا یہ بات سرے سے غلط قرار پائے گی کہ ہم حضور سے ایک چیز تو لے لیں اور دوسری چیز نہ لیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن وسنت میں کوئی تباین اور تضاد نہیں ہے بلکہ دونوں آپس میں اس طرح گتھے ہوئے ہیں کہ انھیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے نزدیک پرویز صاحب کی ایک غلطی یہ ہے کہ انھوں نے دین کے ماخذ کو طے کرنے میں صحیح راہ اختیار نہیں کی۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پرویز صاحب قرآن مجید کی شرح کرنے میں جس طریقہ کار کو اختیار کرتے ہیں وہ دنیا کی کسی بھی کتاب کو سمجھنے میں اختیار نہیں کیا جاتا۔ یعنی ان کے اصول تفسیر نہ یہ کہ غلط ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ آپ جس شخص کا چاہیں مطالعہ کریں لیکن دو شرطیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ آپ کو کسی شخص کا دین نہیں جاننا آپ نے وہ دین جاننا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔دوسرے یہ کہ دین کی شرح اپنے پسندیدہ خیالات کی صورت میں نہیں کرنی ہے بلکہ یہ جاننے کی کوشش کرنی ہے کہ ہمارا خالق ومالک ہم سے کیا چاہتا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author