روزِ قیامت دیگر مخلوقات کا معاملہ

سوال:

یہ جو انسانوں کے علاوہ بے شمار اور ان گنت مخلوقات ہیں ، روزِ قیامت ان کا کیا معاملہ ہو گا؟ کیا ان کا بھی کوئی حساب کتاب ہو گا اور انہیں بھی ان کے اچھے اعمال کی جزا اور برے کاموں کی سزا دی جائے گی؟ اگر ہاں تو کیسے ؟ کیا یہ بھی جنت یا جہنم میں جائیں گی؟ کس شکل میں ؟ ان سوالات نے مجھے کافی پریشان کیا ہوا ہے ، لہٰذا جواب دینے کے لیے میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔


جواب:

اس دنیا کے بعد اگلی زندگی میں کیا ہو گا، قرآن کریم ہمیں اسی بارے میں بتانے کے لیے نازل کیا گیا ہے ۔قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں صرف دو مخلوقات ایسی ہیں جو مکلف ہیں ۔ یعنی ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرا کر انہیں یوم قیامت حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہو گا اور اسی کی بنیاد پر ان کی جنت یا جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ یہ دو مخلوقات انسان اور جن ہیں ۔ باقی دیگر مخلوقات نہ حساب کتاب کی مکلف ہیں اور نہ ان کے لیے جنت اور جہنم کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے ۔

رہا یہ سوال کے قیامت کے دن باقی ان گنت مخلوقات کا کیا ہو گا تو اس حوالے سے قرآن کریم میں کوئی بات براہِ راست بیان نہیں ہوئی ہے۔ تاہم قرآن کے بعض اشارات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قیامت کے بعد بننے والی نئی دنیا میں بھی ان کا کوئی نہ کوئی کردار ہو گا۔ جیسے قرآن اہل جنت کے انعامات میں یہ بات کرتا ہے کہ کھانے کے لیے انہیں ان کے مرغوب پرندوں کا گوشت فراہم کیا جائے گا (واقعہ56: 21)۔ اسی سے قیاس کیا جا سکتا ہے کچھ مخلوقات جنت میں انسان کی خدمت کے لیے مسخر ہوں گے اور کچھ جہنم میں ان کو عذاب دینے کے لیے استعمال ہوں گی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author