روز مرہ کی بیماریوں کے علاج کے لیے قرآنی آیات کا استعمال

سوال:

کیا روز مرہ کی بیماریوں کے علاج کے لیے قرآنی آیات کا استعمال درست ہے؟


جواب:

قرآن کتاب ہدایت ہے۔ اس کی آیات اس لیے نازل ہوئی تھیں کہ ہم ان سے خدا کی ناراضی سے بچنے اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ جانیں۔ یہ آیات اس لیے نازل نہیں ہوئی تھیں کہ ان سے جسمانی بیماریوں کے علاج کا کام لیا جائے۔
یہ فن کبھی بھی سائنس نہیں بن سکا۔ یہ محض اندازوں اور توہمات پر قائم ایک نظام ہے جس کی کوئی تائید قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے نہیں ملتی، ان سے گریز بہتر ہے، خواہ اس کی بعض صورتیں دین کی رو سے غلط قرار نہ دی جا سکتی ہوں۔ البتہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی دعاؤں کو پڑھ کر اپنے اوپر یا کسی دوسرے کے اوپر پھونک مارنا درست ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ معوذتین (سورۂ فلق اور سورۂ ناس) پڑھ کر اپنے اوپر پھونکا کرتے تھے۔ معوذتین دعائیں ہیں۔ دعا خدا سے کی جاتی ہے۔ یہ کسی آیت کی زیربحث معنی میں کوئی تاثیر ماننا نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author