روضۂ رسول پر حاضری کے موقع پر درود و سلام پیش کرنے کا طریقہ

سوال:

روضۂ مبارک پر حاضری اور اس موقع پر درود و سلام پیش کرنے کا صحیح ترین طریقہ کیا ہے؟ درودوسلام کیا ہم معنیٰ الفاظ ہیں یا ان کے معنی الگ الگ ہیں ؟ سلام سے مراد کیا اسی طرح کا سلام ہے جس طرح ہم ملتے وقت ایک دوسرے کو کرتے ہیں؟ روضۂ مبارک پر حاضری کے موقع پر کیا ہمیں ہر مرتبہ حاضر ہونے پر درود و سلام پیش کرنا چاہیے یا دن میں ایک مرتبہ اور پہلی حاضری کے وقت کا درودوسلام کافی ہے؟


جواب:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر رحمتیں نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے رحمت کی درخواست کرتے ہیں اس لیے اہلِ ایمان کو بھی آپ کے لیے رحمت کی دعا اور سلامتی کی درخواست کرتے رہنا چاہیے (احزاب22: 56)۔ قرآنِ کریم میں اس مقصد کے لیے صلوۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رحمت کی درخواست کے ہیں ۔ فارسی میں اس کے لیے عام طور پر درود کالفظ بولتے ہیں۔ یہی اردو میں بھی رائج ہے ۔ جبکہ سلام کا مفہوم سب جانتے ہیں کہ یہ سلامتی کی دعا ہے ۔عام طور پر ہم ایک دوسرے کو بھی السلام علیکم کہہ کر یہی دعا دیتے ہیں ۔

عام زندگی میں اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر جا کر یہ صلوٰۃ و سلام ایک دو دفعہ نہیں ، بلکہ مستقل ادا کرتے رہنا چاہیے ۔اس کا کوئی خاص طریقہ نہیں ، بلکہ جس طرح چاہیں ادا کریں ۔ احادیث میں چونکہ وہ درود و سلام آ گئے ہیں جو حضور نے خود سکھائے ہیں اس لیے ان کی بہت اہمیت ہے ۔ انہی کو ہم نمازوں میں ادا بھی کرتے ہیں۔ مگر یہ ایک دعا ہے اور دعا کا جو اسلوب ، جس زبان میں آپ چاہیں اختیار کرسکتے ہیں ، اس پر کوئی پابندی نہیں۔

البتہ یہ پیش نظر رہے کہ کچھ لوگ روضۂ مبارک پر جا کر درود و سلام پڑ ھتے پڑ ھتے حضور کو مخاطب کر کے اسی طرح دعائیں کرنا شروع ہوجاتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ سے کی جاتی ہے ۔یہ درست نہیں ہے۔ دردود وسلام ، جیساکہ ہم نے واضح کیا، خود ایک دعا ہے جو دراصل اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے اس سے کی جاتی ہے ۔حضور سے دعا مانگنا تو آپ کے لائے ہوئے دین کی بنیادوں پر تیشہ چلانے کے مترادف ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے کیسے خوش ہو سکتے ہیں ؟ تاہم اس بات کی گنجایش موجود ہے کہ کوئی شخص روضۂ رسول کے سامنے آپ پر درود و سلام پیش کرتے ہوئے آپ کے لیے مخاطب کا صیغہ اختیار کر لے محض اس بنا پر کہ وہ آپ کے روضے کے سامنے کھڑا ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author