رسولوں پر ایمان اور نجات بحوالہ سورۂ بقرہ آیت 62

سوال:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۂ بقرہ کی ایک آیت کے مطابق رسولوں پر ایمان لائے بغیر جنت میں جانا ممکن ہے ۔ کیایہ بات درست ہے؟


جواب:

آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ قرآن میں ذرا سے لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ سورۂ بقرہ (۶۲ :۲) اور سورۂ مائدہ (۶۹ :۵) میں آئی ہے۔ اس کا ترجمہ درج ذیل ہے :

’’بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے ، یا یہودی یا عیسائی یا صابی ، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہو گا اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

اس آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں بنی اسرائیل کے اس غلط نظریے کی تردید کر رہے ہیں کہ ہم محض یہودی ہونے کے باعث جنت کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ واضح کر رہے ہیں کہ کسی مخصوص گروہسے تعلق ، خواہ وہ یہودی ، عیسائی یا مسلمان ہو، اس گروہ سے تعلق نجات کی ضمانت نہیں بنتا ، بلکہ ایمان و عمل ہی آخرت کی نجات کا باعث ہے ۔

رہا یہ سوال کہ اس آیت میں عقیدۂ رسالت کیوں شامل نہیں، تو عرض ہے کہ اس آیت میں نجات کی مثبت شرائط کا بیان ہے۔ یعنی نجات کے لیے اللہ اور آخرت کو ماننا اور عمل صالح کرنا لازمی ہیں ۔ اس کے علاوہ دین کے جو کچھ مطالبات ہیں وہ کچھ کرنے کے نہیں ، بلکہ کچھ چیزوں سے رکنے اور بچنے کے ہیں ۔مثلاًکسی بے گناہ کا قتل ایک بہت بڑ ا جرم ہے ، اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے ۔اگر کوئی ایسا کر گزرے تو اسے اس جرم کی سزا ضرور ملے گی، چاہے وہ اس آیت میں مذکور شرائط پوری کرتا ہو۔ اسی طرح جو شخص جانتے بوجھتے اللہ تعالیٰ کے کسی رسول (خواہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یا کوئی اور نبی اور رسول ہو) کا انکار کر دے تو یہ بھی ایک جرم عظیم ہے جس کی سزا اسے جنت سے محرومی کی شکل میں ملے گی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author