رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگتی حالت میں دیکھنا

سوال:

میں نے کچھ لوگوں سے یہ سنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف سوتے ہوئے خواب کی حالت میں ، بلکہ جاگتے ہوئے باقا عدہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا جا سکتا ہے اور آپ سے بات کی جا سکتی ہے۔ یہی بات مجھے ایک صاحب نے بتائی کہ ایک مرتبہ حضور دن کے وقت میرے پاس آئے اور مجھ سے بات بھی کی۔ اور اسی طرح کی باتیں اور دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور کو جاگتے ہوئے دیکھا اور آپ سے بات بھی کی ہے ۔ میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے ؟ کیا اس بات کا کوئی ثبوت قرآن مجید سے بھی ملتا ہے ؟


جواب:

جو لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ وہ آج بھی جسمانی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکتے اور ان سے ملاقات کر سکتے ہیں ، انھیں بعض روایات کا مفہوم سمجھنے میں غلطی لگی ہے ۔حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ اس طرح ہے:

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو دراصل اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بنا سکتا۔ (بخاری ، رقم:110)

خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھنا اصل میں آپ کو دیکھنے کے متراد ف ہے اور یہ کہ شیطان حضور کی شکل میں نہیں آ سکتا، اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے اسلوب میں اس طرح بیان کیا ہے:

’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ گویا اس نے مجھے جاگنے کی حالت میں دیکھا کیونکہ شیطان یہ قدرت نہیں رکھتاکہ میری شکل بنا سکے ۔‘‘ ، (ابن ماجہ ، رقم:3904)

حدیث میں آنے والے الفاظ ’’اس نے مجھے جاگنے کی حالت میں دیکھا‘‘کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خواب میں دیکھنے والے کو دن کی روشنی میں اور جاگنے کی حالت میں حضور کا مشاہدہ ہو گا، بلکہ اصل روز اس پر ہے کہ خواب دیکھنے والے کو کوئی دھوکہ نہیں لگا۔باقی جو باتیں لوگ کرتے ہیں ان کا دین میں کوئی اعتبار نہیں ۔ کوئی محقق عالم ایسی بات نہیں کر سکتا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author