رسول اللہ کي عدالت ہوتا ہے

سوال:

اس دعوي کي دليل قرآن و حديث ميں کہاں ہے کہ ’رسول‘ اللہ کي عدالت ہوتا ہے؟


جواب:

استاذ محترم جاويد احمد صاحب غامدي اپنے اس نقطۂ نظر کو کہ ’رسول‘ اللہ کي عدالت ہوتا ہے واضح کرتے ہوئے لکھتے ہيں:

’رسالت‘ يہ ہے کہ نبوت کے منصب پر فائز کوئي شخص اپني قوم کے ليے اس طرح خدا کي عدالت بن کر آۓ کہ اس کي قوم اگر اسے جھٹلا دے تو اس کے بارے ميں خدا کا فيصلہ اسي دنيا ميں اس پر نافذ کر کے وہ حق کا غلبہ عملاً اس پر قائم کر دے

وقال الذين کفروا لرسلهم لنخرجنکم من ارضنآ او لتعودن في ملتنا ، فاوحي اليهم ربهم لنهلکن الظلمين ، ولنسکننکم الارض من بعدهم (ابراهيم14: 13۔14

اور ان کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمھيں اس سرزمين سے نکال ديں گے يا تم ہماري ملت ميں واپس آؤ گے۔ تب ان کے پروردگار نے ان پر وحي بھيجي کہ ہم ان ظالموں کو لازماً ہلاک کريں گے اور ان کے بعد تمھيں لازماً اس سرزمين ميں بسائيں گے۔

ان الذين يحآدون الله ورسوله ، اولئك في الاذلين کتب الله لاغلبن انا ورسلي ، ان الله قوي عزيز (المجادله58: 20۔21)

بے شک ، وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کي مخالفت کر رہے ہيں ، وہي ذليل ہوں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ ميں غالب رہوں گا اور ميرے رسول بھي۔ بے شک ، اللہ قوي ہے ، بڑا زبردست ہے۔

رسالت کا يہي قانون ہے جس کے مطابق خاص نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے بارے ميں قرآن کا ارشاد ہے

هو الذي ارسل رسوله بالهدي ودين الحق ليظهره علي الدين کله ، ولو کره المشرکون

وہي ہے جس نے اپنے رسول کو ہدايت اور دين حق کے ساتھ بھيجا کہ اسے وہ (سرزمين عرب کے) تمام اديان پر غالب کردے ، اگرچہ يہ بات (عرب کے) ان مشرکوں کو کتني ہي ناگوار ہو۔ (الصف61: 9

اس کي صورت يہ ہوتي ہے کہ اللہ تعالي ان رسولوں کو اپني دينونت کے ظہور کے ليے منتخب فرماتے اور پھر قيامت سے پہلے ايک قيامت صغري ان کے ذريعے سے اسي دنيا ميں برپا کر ديتے ہيں۔ انھيں بتا ديا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے ميثاق پر قائم رہيں گے تو اس کي جزا اور اس سے انحراف کريں گے تو اس کي سزا انھيں دنيا ہي ميں مل جائے گي۔ اس کا نتيجہ يہ نکلتا ہے کہ ان کا وجود لوگوں کے ليے ايک آيت الہي بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گويا ان کے ساتھ زمين پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوۓ ديکھتے ہيں۔ اس کے ساتھ انھيں حکم ديا جاتا ہے کہ حق کي تبليغ کريں اور اللہ تعالي کي ہدايت بے کم و کاست اور پوري قطعيت کے ساتھ لوگوں تک پہنچا ديں۔ قرآن کي اصطلاح ميں يہ ’شہادت‘ ہے۔ يہ جب قائم ہو جاتي ہے تو دنيا اور آخرت ، دونوں ميں فيصلۂ الہي کي بنياد بن جاتي ہے۔ چنانچہ اللہ تعالي ان رسولوں کو غلبہ عطا فرماتے اور ان کي دعوت کے منکرين پر اپنا عذاب نازل کر ديتے ہيں۔ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو قرآن مجيد ميں ’شاہد‘ اور ’شہيد‘ اسي بنا پر کہا گيا ہے۔

ارشاد فرمايا ہے

انآ ارسلنآ اليکم رسولًا ، شاهدًا عليکم ، کمآ ارسلنآ الي فرعون رسولاً (المزمل73: 15

تمھاري طرف ، (اے قريش مکہ) ، ہم نے اسي طرح ايک رسول بھيجا ہے ، تم پر شاہد بنا کر ، جس طرح ہم نے فرعون کي طرف ايک رسول بھيجا۔" ميزان ، مقدمہ 2 بعنوان دين حق ، ص12۔14

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author