رسول اور اقتدار

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ رسول اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ رسول اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔

عرض ہے کہ کچھ پیغمبروں کو اقتدار حاصل ہوا ہے لیکن ان کی جدوجہد کا ہدف کبھی بھی اقتدار نہیں ہوتا۔ قرآن مجید کے بیانات سے واضح ہے کہ پیغمبروں کو اقتدار عطا کیا جاتا ہے وہ اقتدار حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔ قرآن مجید کی مکی سورتیں، حضرت مسیح علیہ السلام کے اناجیل میں مواعظ اور حضرت موسی علیہ السلام کی فرعون سے گفتگوئیں سب اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ پیغمبر صرف اور صرف انذار کرتے ہیں۔ ان کو صرف ابلاغ کی ذمہ داری دی جاتی ہے وہ یہ ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور کچھ پیغمبروں کی زندگی میں یہ مرحلہ بھی آتا ہے کہ وہ مسند اقتدار کو بھی زینت بخشتے ہیں۔

میرے اس جواب کا یہ مطلب نہیں کہ مذہب کو اقتدار سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اقتدار انسان کے معاشرتی ظہور کا لازمی نتیجہ ہے۔ چنانـچہ یہ ضروری ہے کہ دین اس جہت سے بھی انسان کی رہنمائی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں اس حوالے سے رہنمائی موجود ہے۔ لہذا مسلمان جب بھی اقتدار پا‎ئیں گے وہ ان احکام پر بھی عمل کریں گے۔ اقتدار کچھ معاشرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے اس کا اپنا میکانزم ہے۔ دین کا ابلاغ اور انذار ایک دوسرا کام ہے۔ البتہ اس کے نتیجے میں آپ سے آپ وہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں جو اقتدار پر منتج ہوں

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author