سابقہ شریعتوں میں اجتماعی نماز

سوال:

اجتماعی نماز کیا ہماری شریعت ہی میں خاص ہے یا پہلی شریعتوں میں بھی رائج تھی؟ حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنے شاگردوں سے کہنا کہ تم یہاں ٹھیرو میں اپنی نماز پڑھ لوں ، اس سے کیا مراد ہے ؟


جواب:

پہلی شریعتوں میں انفرادی اور اجتماعتی ، دونوں نمازوں کا ذکر ہے ۔ جیسے ہمارے ہاں اجتماعی نماز بھی ہوتی ہے اور انفرادی نماز بھی ہوتی ہے ۔ ہم اجتماعی نماز پڑھتے ہیں اور اس سے قبل یا بعد انفرادی طور پر نفل پڑھتے ہیں۔ تہجد کی نماز تو خاص طور پر انفرادی نماز ہے ۔ یہودونصاریٰ کے ہاں دونوں نمازوں کا ذکر ہے ۔ مثال کے طور پر کتاب مقدس میں اس طرح کی باتیں بھی درج ہیں کہ یہ جگہ وہ تھی جہاں جمع ہو کر نماز پڑھی جاتی تھی یا تب لوگ ہیکل کے پھاٹکوں میں نماز پڑھنے کے لیے جا رہے تھے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اجتماعی نماز کا ذکر ہے۔ جن موقعوں پر یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا مسیح نے کہا کہ تم ٹھہرو میں تھوڑی دیر کے لیے نماز پڑھ لوں تو یہ انفرادی نماز ہے ۔ یہ نفل نمازیں ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ایسا ہی ہے ، یعنی آپ نے اجتماعی نماز کا اہتمام بھی کیا اور انفرادی نماز کا بھی ۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author