ساڑھی اور مسلمان خواتین

سوال:

اگر خواتین اسلامی لباس کی خصوصیات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ انہیں اپنے جسم کو اچھی طرح چھپانا ہے اور اپنے اعضا کی بناوٹوں کو بھی نمایاں نہیں ہونے دیناتو کیا وہ انڈین ساڑ ھی پہن سکتی ہیں؟ اگر ہاں تو کیا اس طرح کے لباس پہن کر آفس بھی جایا جا سکتا ہے؟


جواب:

لباس انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے جسے حفاظت ، زینت اورجسم ڈھانکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ لباس جسم کو کتنا ڈھانکے ہوئے ہو ، اس کا فیصلہ لوگ اپنے علاقے کے موسم کے مطابق کرتے رہے ہیں ۔جس خطے میں گرمی زیادہ ہوتی ہے وہاں لباس نسبتاً کھلا اور ہوا دار پہنا جاتا ہے ۔ساڑ ھی اُس خطے کا لباس ہے جس میں آج انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ شامل ہیں ۔اس خطے میں موسم عام طور پر گرم مرطوب ہوتا ہے ۔ اس لیے ساڑ ھی کے لباس میں قدرے کھلا پن پایا جاتا ہے ۔ غالباً یہی چیز آپ کے سوال کا باعث بنی ہے ۔

اسلام نے اپنے پیروکاروں کو کسی خاص لباس کا پابند نہیں کیا۔ البتہ مرد و زن کے اختلاط کے حوالے سے جو ہدایات دی ہیں ، ان سے کچھ اصولی رہنمائی ملتی ہے ۔ سورۂنور میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

مومن مردوں سے کہہ دو:(اے پیغمبرکہ اگرعورتیں موجود ہوں )وہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اوراپنی شرم گا ہوں کی حفاظت کریں ۔یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔اس میں شبہ نہیں کہ جوکچھ وہ کرتے ہیں ، اللہ اس سے پوری طرح واقف ہے ۔اور مومن عورتوں سے کہہ دوکہ وہ بھی اپنی نظریں بچاکر رکھیں اوراپنی شرم گا ہوں کی حفاظت کریں ۔ ۔ ۔ اورایمان والوں ، سب مل کراللہ سے رجوع کروتاکہ تم فلاح پاؤ۔ (نور24: 30۔31)

ان آیات میں مرد اور خواتین دونوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی شرمگا ہوں کی حفاظت کریں ۔اس کے لیے عربی تعبیر ’حفظ فروج‘ استعمال ہوئی ہے ۔سورۂ احزاب(22) کی آیت 35میں ’حفظ فروج‘ کو اہل ایمان کے ایک مستقل وصف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’نویں چیزحفظ فروج ہے ۔یعنی جوشرم گا ہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔یہ ضبط نفس اورتقویٰ کاثمرہ ہے ۔برہنگی، عریانی اور فواحش سے اجتناب کرنے والوں کے لیے یہ تعبیرقرآن میں بعض دوسرے مقامات پربھی آئی ہے ۔مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی عفت وعصمت کی بالکل آخری درجے میں حفاظت کرنے والے ہیں ۔چناچہ اللہ نے جہاں اجازت دی ہے ، اس کے سوا خلوت وجلوت میں اپناستروہ کسی کے سامنے نہیں کھولتے اورنہ کوئی ایسالباس پہنتے ہیں جوان اعضا کونمایاں کرنے والا ہو جو اپنے اندرکسی بھی لحاظ سے جنسی کشش رکھتے ہیں ۔ فواحش سے اجتناب کایہی رویہ ہے جس سے وہ تہذیب پیدا ہوتی ہے جس میں حیا فرماں روائی کرتی اورمردوعورت، دونوں اپنے جسم کوزیادہ سے زیادہ کھولنے کے بجائے ، جہاں تک ممکن ہو، زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر رکھنے کے لیے مضطرب ہوتے ہیں ۔‘‘(اخلاقیات ، ص86۔87)

اس روشنی میں اصل مسئلے پر غور کیجیے تو محسوس ہوتا ہے کہ ساڑ ھی کو اگر اس طرح پہنا گیا ہے کہ اس میں عریانی کا عنصر ہے ، اعضا کو نمایاں کیا گیا اور جنسی کشش کو ابھارا گیا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ خواتین اگر ان چیزوں سے بچ کر، ساڑ ھی کے لباس میں کچھ ترمیم کر کے اسے پہنتی ہیں تو ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس تبدیلی کے بعد وہ اسے گھر اور آفس ہر جگہ پہن سکتی ہیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author