سات آسمانوں كی حقيقت

سوال:

سات آسمانوں اور سات زمينوں كی كيا حقيقت ہے؟ كچھ علما كا خيال ہے كہ سات زمينوں سے مراد زمين كی سات تہيں ہيں۔ ميں اس موقف كا قائل نہيں ہو سكا۔ كچھ دوسرے علما كا خيال ہے كہ اس سے مراد سات مختلف زمينيں ہيں جو ہماری زميں جيسی ہيں۔ ان ميں سے ہر زمين اپنا ايك سورج ركھتی ہے اور اس طرح سات آسمان بھی سمجھ ميں آ جاتے ہيں۔ علما يہ بھی كہتے ہيں كہ ايك ہی آدمی مثلا زيد ہر زميں پر وجود ركھتا ہے۔ جہاں تك سات آسمانوں كا تعلق ہے تو اس سلسلہ ميں يہ رائے ہے كہ اس سے مراد سات معين ايٹماسفيرك ليئرز (atmospheric layers)ہيں۔ ميرے خيال ميں يہ بات بھی اتنی مضبوط نہيں۔ اگر ہم اس بارے ميں حقيقت نہيں جان سكتے تو كيا ہميں بات الله پر نہيں چھوڑ دينی چاہيے؟


جواب:

عرض یہ ہے کہ دراصل جب ہم کسی کلام کو سمجھتے ہیں ، تو اس کے جملے اور الفاظ کو اپنے علم کے لحاظ سے سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ مثلا میں کہوں کہ میرے گھر میں فریج پڑا ہے۔ اب آپ اس فريج کے بارے میں وہی تصو ر ذہن میں لائیں گے جو فرج آپ نے دیکھے ہوں گے۔ تو مثلا کوئی بچہ آپ سے پوچھے کہ جناب یہ فرج کیا چیز ہے تو آپ ویسی تفسیر کریں گے جیسی فريج کے بارے میں آپ کی معلومات ہوں گی یا جیسے فريج آپ نے دیکھیں ہوں گے ، ویسی ہی بات بچے کو بتائیں گے ۔لیکن ہو سکتا ہے کہ میرے گھر میں پڑا فريج بالکل ہی اور طرح کاہو۔اس لیے علما آسمان و زمین کی اپنے علم کے مطابق حقیقت بتانے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔اس لیے کہ علما تو وہی تفسیر کریں گے جیسے زمین و آسمان انھوں نے دیکھ رکھے ہیں ۔باقی چھ آسمان کسی نے نہیں دیکھے ہیں۔اختلاف رائے کی وجہ غالبا یہ ہے ہم میں سے کسی نے بھی سات آسمانوں کو نہیں دیکھا ہے۔ اس لیے جب بھی بات کریں گے قیاس کی بنا پر کریں گے۔ اس لیے اختلاف پیدا ہو گا۔

آپ نے جن آراء کا ذکر کیا ہے، میرا بھی ان پر اطمینا ن نہیں ہے۔میں قرآن مجید کی طرف سے چند معلومات آپ کی خدمت میں رکھ دیتا ہوں ، تصویر آپ خود بنا لیں۔

1۔ پہلی بات: آسمان سات ہیں اور زمین ایک ہے۔دیکھیے:

هوَ الَّذِی خَلَقَ لَکم مَّا فِی الأَرْضِ جَمِیعاً ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاء فَسَوَّاهنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهوَ بِکلِّ شَیءٍ عَلِیمٌ (البقرة 29)

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں زمین ہمیشہ واحد ہی آیا ہے جبکہ آسمان واحد اور جمع دونوں صورتوں میں آتے ہیں۔ مثلا ذیل کی آیت دیکھیے جو خدا کی قدرت تخلیق کو بیان کرتی ہے، مگر یہاں بھی زمین ایک ہی ہے، حالانکہ موضوع کا تقاضا یہ تھا کہ زیادہ زمینوں کا ذکر کیا جائے اس لیے کہ تخلیق کی قدرت کا بیان ہو رہا ہے ۔لیکن یہاں بھی ایک ہی زمین کا ذکر ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین ایک ہی ہے:

بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا یقُولُ لَه کن فَیکونُ (البقرة2: 117)

وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔

صرف ایک جگہ کچھ اشارہ سا کہ سکتے ہیں مگر وہ اتنا صریح نہیں ہے کہ ہم اس کی بنیاد پر رائے قائم کر سکیں ۔ یہ سورہ الطلاق کی آیت 12 ہے، اس کا حوالہ آگے آرہا ہے۔

2۔ دوسری بات: زمین بالکل ویسی ہی ہے جیسے آسمان ہیں۔

اللَّه الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهنَّ یتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَینَهنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّه عَلَى کلِّ شَیءٍ قَدِیرٌ وَأَنَّ اللَّه قَدْ أَحَاطَ بِکلِّ شَیءٍ عِلْمًا (الطلاق : 12)

اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمین میں سے۔ ان میں (اللہ کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ اللہ چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ اللہ اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

اس سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ آسمان اور زمین ایک ہی طرح کی چیزیں ہیں۔ اس آیت سے لگتا ہے کہ سیاروں کو اللہ تعالی آسمان کہہ رہے ہیں اور زمین کو زمین ۔ کیونکہ زمین اگر اوپر کی کسی چیز سے مماثل ہے تو وہ سیارے ہی ہیں۔ اب اگر ہم دیکھیں تو ہمارے نظام شمسی میں کل سیارے آٹھ ہیں ، زمین کے علاوہ سات ہیں اور آٹھویں ان جیسی زمین ہے۔ اس آیت کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ غالبا اللہ تعالی کی مراد یہ ہے کہ کل سیارے آٹھ ہیں جن میں سے ایک زمین ہے اور سات آسمان ہیں۔

3۔ آسمان کے معنی

آسمان ترجمہ ہے سماء کا:یہ قدیم عربی لفظ ہے جو زمین کے اوپر ی فضا اور اس کے اجسام کے لیے بولا جائے گا۔

جیسے ذیل کی آیت میں دیکھیے کہ کرہ ارضی میں موجود ہوائی کروں (atmospheric layers)کے لیے بولا گیا ہے۔

أَلَمْ یرَوْاْ إِلَى الطَّیرِ مُسَخَّرَاتٍ فِی جَوِّ السَّمَاء مَا یمْسِکهنَّ إِلاَّ اللّه إِنَّ فِی ذَلِك لَآیاتٍ لِّقَوْمٍ یؤْمِنُونَ (النحل 16)

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو اللہ ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

کہیں بادلوں کے لیے اور کہیں اوپر کی خلا کے لیے جہاں ستارے ہیں مثلا:

إِنَّا زَینَّا السَّمَاء الدُّنْیا بِزِینَة الْکوَاکبِ (الصافات37: 6)

بےشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا۔

صرف اوپر کے معنی میں :

قَالَ عِیسَى ابْنُ مَرْیمَ اللَّهمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَینَا مَآئِدَة مِّنَ السَّمَاء تَکونُ لَنَا عِیداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیة مِّنك وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ (مائدة5: 114)

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔

بادل کے معنی میں :

وَهوَ الَّذِی أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء (انعام6: 99)

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برساتا ہے۔

اوپر کے نیلے آسمان کے معنی میں:

أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاء كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللّهِ وَالْمَلآئِكَةِ قَبِيلاً (اسرائيل17: 92)

یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے لا گراؤ یا اللہ اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لاؤ ۔

خدا کی طرف سے کے معنی میں :

قُل لَّوْ كَانَ فِي الأَرْضِ مَلآئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاء مَلَكًا رَّسُولاً (بني اسرائيل17: 95)

کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے ۔

زمین کے علاوہ باقی ساری کائنات کے معنی میں:

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (الأنبياء 16)

اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا۔

اجرام فلکی کے معنی میں:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَيُمْسِكُ السَّمَاء أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ (الحج 65)

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) اللہ نے تمہارے زیرفرمان کر رکھی ہیں اور کشتیاں (بھی) جو اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں۔ اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گڑ پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بےشک اللہ لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔

یہ مثالیں اس لیے دی گئی ہیں تا کہ معلوم ہو کہ قرآن مجید میں سماءٌ کے معنی صرف آسمان کے نہیں ہیں۔

میرا خیال:

ان معلومات کی روشنی میں مجھے لگتا ہے کہ سات آسمانوں سے مراد زمین کے علاوہ باقی تمام سیارے ہیں ۔ سات آسمانو ں اور زمین سے اشارہ ہمارے نظام شمسی کی طرف ہے۔یہ تمام بنیادی طور پر گلوب ہیں۔سب کا ایک مدار ہے ، سب گردش کررہے ہیں ۔ یہی وہ مماثلتیں ہیں جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں۔

اور بھی معلومات قرآن مجید میں ہیں جو میری اس بات کی تائید کرتی ہیں مگر وہ اگر ضرورت پیش آئی تو بیان کروں گا۔ اس لیے کہ جواب پہلے ہی بہت طویل ہو چکا ہے۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.